.

مغربی ممالک نے شام پر حملہ کیا تو روس جنگ میں نہیں الجھے گا

روسی وزیرخارجہ کا مغرب کو شام کے خلاف غیرمجاز فوجی کارروائی پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ اگر مغربی طاقتوں نے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے شام پر حملہ کیا تو روس اس جنگ میں نہیں الجھے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹَرز کی رپورٹ کے مطابق سرگئی لاروف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمارا کسی کے ساتھ بھی جنگ کا کوئی ارادہ نہیں ہے''۔ انھوں نے کہا کہ ''شام میں مسلح مداخلت سے اس ملک میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ نہیں ہوگا''۔

''اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ شام کی فوجی تنصیبات پر بمباری اور ان کی تباہی کے بعد میدان جنگ کو شامی رجیم کے مخالفین کے لیے چھوڑ دینے سے ہرچیز کا خاتمہ ہوجائے گا تو یہ ایک التباس فکر ہے'': ان کا کہنا تھا۔

انھوں نے مغرب کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر شام میں فوجی مداخلت پر انتباہ کیا اور کہا کہ اس طرح کا کوئی اقدام بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ مغرب اس وقت شام کے حوالے سے خطرناک راہ پر چل رہا ہے۔

روس شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا سب سے بڑا اتحادی ملک ہے اور وہ ماضی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف پیش کردہ قراردادوں کو ویٹو کرچکا ہے لیکن اب شامی حکومت پر دمشق کے نواح میں واقع غوطہ کے علاقے میں تباہ کن کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے الزامات کے بعد سے شام کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور امریکی حکام شام کے خلاف ''سرخ لکیر'' عبور کرنے پر فوجی اقدام کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

روس اس سے پہلے شام میں مغرب کے منصوبے کے بارے میں خبردار کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد خطے کے جغرافیائی سیاسی نقشے کو تبدیل کرنا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو اس سے ایران بھی کمزور ہوگا اور وہ خطے میں تنہا ہوکر رہ جائے گا جبکہ شامی رجیم کے ہتھیار لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔