.

ممبئی: خواتین کیلیے خطرناک ؟ شبانہ، روینہ ٹنڈن اور دیا مرزا

2012ء کے دوران "بالی وڈ سٹی"میں 234 خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت ایشیاء میں تقریباً سوا ارب آبادی کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کے ساتھ بدسلوکی، اجتماعی زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کے بڑھے ہوئے واقعات نے پورے ملک کے سوچنے سمجھنے والے طبقات سے لیکر شوبز سے وابستہ آزاد خیال شخصیات کو بھی عاجز کر دیا۔

ممبئی میں خاتون فوٹو جرنلسٹ کےساتھ پیش آنے والے اجتماٰئی زیادتی کے حالیہ واقعے کے بعد بالی ووڈ کی مشہور اداکاراوں نے ممبئی کو خواتین کے لیے محفوظ شہر ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

واضح رہے کہ ممبئی ایک گنجان آباد شہر صرف اپنی آبادی ہی نہیں ،صنعت و تجارت اور بندرگاہ کے ساتھ ساتھ بالی وڈ بھی ممبئی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ لیکن خواتین کے ساتھ گینگ ریپ، بدسلوکی اور چھیڑ چھاڑ جیسے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو ممبئی کا چہرہ بھارت ہی نہیں پورے ایشیا میں سب سے زیادہ داغدار ہے۔

ممبئ میں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتیوں کا ریکارڈ مرتب کرنے والے ایک بھارتی ادارے انڈیا کرائم رپورٹ کے مطابق 2012ء میں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے 234 واقعات ریکارڈ پر آئے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر تین برسوں میں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کےکل 647 اور چھیڑ چھار کے 1877 مقدمات درج ہوئے ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق ممبئی کو اس صورتحال تک پہنچانے میں فلم انڈسٹری کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔

بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی نے کہا کہ یہ اذیت ناک واقعہ ممبئی کے لوگوں کو جگانے کےلیے یہ کافی ہے اور ممبئی میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

جوہی چاولہ کے مطابق ممبئی ایک زندہ شہر کے طور پر جانا تھا مگر اس واقعے کے بعد ان کا دل مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔

بھارتی صف اول کی اداکاراوں لیلتے ڈوبے،پوجا بیدی،ریما کگتی،ریچا چڈا،صوفی چودری، گوہر خان، دیامرزا،ریما سین، روینہ ٹنڈن،ارمیلا ماٹنڈولکر،گوری شینڈے،سلینا جیٹیلی اور نیہا دوپیا نے بھی گینگ ریپ کے واقعات میں اضافہ کو حکومت کی رٹ کو چیلنچ کرنے کے مترادف ہے۔

حکومت اپنی رٹ قائم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ کئی اداکاراوں نے کہا کہ وہ بھارت کے مختلف شہروں سے ممبئی شفٹ ہوئیں تھیں کیونکہ وہ ممبئی کو ایک محفوظ جگہ تصور کرتی تھیں مگر اب انہیں اپنا یہ عمل ایک احمقانہ عمل لگتا ہے