.

عبداللہ صالح پر بم حملے کی سماعت کرنے والے جج کی مقدمے سے علاحدگی

فیصلہ سابق یمنی صدر کے حامی ذرائع ابلاغ کے دباؤ کا نتیجہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح پر بم حملہ کیس کی سماعت کرنے والے جج نے بطور احتجاج خود کو مقدمے سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مستعفی جج کا کہنا تھا کہ علی عبداللہ صالح کے حامی بعض ذرائع ابلاغ اور ان کے دیگر وفاداروں کی جانب سے ان پر سخت دباؤ تھا جس کے باعث ان کے لیے مقدمہ کی سماعت مشکل ہو رہی تھی۔

خیال رہے کہ علی عبداللہ صالح کو سنہ 2011ء میں اس وقت حملے میں ہلاک کرنے کی ناکام کوشش کی گئی جب وہ صنعاء میں ایوان صدر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کر رہے تھے۔ نامعلوم افراد نے مسجد میں بم دھماکے کیے جن کےنتیجے میں علی عبداللہ صالح شدید زخمی اور بڑی تعداد میں اہم حکومتی شخصیات ہلاک ہوگئی تھیں۔

بعد ازاں عدالت نے سابق صدر پر حملے کے تحقیقات شروع کی تھیں اور مجموعی طور پر 57 افراد حملے کے الزام میں ٹرائی کیا جا رہا ہے۔ ان میں پانچ ملزم زیرحراست ہیں جن میں یمنی فوجی بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں ستائیس ملزمان کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا جبکہ دیگر ستائیس ملزمان مفرور ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چل رہا ہے۔

کیس سے علاحدگی اختیار کرنے والے یمنی جج کا کہنا ہے کہ ان پر ذرائع ابلاغ کی جانب سے دباؤ تھا جس کے باعث وہ کیس کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرنے میں رکاوٹ محسوس کر رہے تھے۔ اس پرانہوں نے کیس سے علاحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یمن میں تین عشروں تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک سمجھے جانے والے سابق صدر علی عبداللہ صالح کےخلاف بھی تین سال قبل ایک عوامی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ عرب ممالک بالخصوص خلیجی ریاستوں کی فوری مداخلت سے علی عبداللہ صالح کو ہٹا دیا گیا اور اپوزیشن اور نئے صدر کے درمیان ایک مفاہمتی معاہدے کے بعد احتجاجی تحریک ختم کردی گئی تھی۔