.

فرانس، شام میں کیمیائی حملے کے ذمے داروں کو سزا دینے کو تیار

شام میں جاری خانہ جنگی سے عالمی امن کے لیے خطرات پیدا ہو گئے: فرانسو اولاند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی سے عالمی امن کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں اور ان کا ملک شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ذمے داروں کو سزا دینے کے لیے تیار ہے۔

فرانسو اولاند پیرس میں دنیا بھر میں تعینات فرانسیسی سفیروں کی سالانہ کانفرنس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ بظاہر یہ بات یقینی لگ رہی ہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کا کیمیائی حملے میں ہاتھ کارفرما ہے۔اب یہ بیرونی دنیا کی ذمے داری ہے کہ وہ اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرے۔

انھوں نے کہا کہ وہ بدھ کو اس موضوع پر غور کے لیے دفاعی کونسل کا اجلاس بلائیں گے اور فرانسیسی پارلیمان کو بھی بریف کریں گے۔

جنگی تیاریاں

''دوستان شام'' گروپ میں شامل گیارہ ممالک کے نمائندوں نے استنبول میں سوموار کو شامی حزب اختلاف کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں کہا تھا کہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف آیندہ چند روز میں فوجی کارروائی کا امکان ہے۔

درایں اثناء امریکا کے بعد اس کے اتحادی ملک برطانیہ نے بھی کہ دیا ہے کہ وہ مسلح افواج کے لیے ہنگامی پلان ترتیب دے رہا ہے۔برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر شام کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اتحادی ممالک کے عہدے داروں سے ٹیلی فون پر گفتگو میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے پر ردعمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

جان کیری نے گذشتہ پانچ روز کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کے علاوہ برطانیہ ،فرانس ،کینیڈا ،ترکی ،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور اردن کے وزرائے خارجہ سے شام کی صورت حال اور اس کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر بات چیت کی ہے۔

اس دوران امریکا کی جانب سے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی مکمل تیاریوں کی بھی اطلاعات منظرعام پر آ چکی ہیں لیکن دوسری جانب روس نے شام میں فوجی مداخلت پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پورے خطے کے لیے تباہ کن مضمرات ہو سکتے ہیں۔اس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے بارے میں محتاط طرزعمل اختیار کرے۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لوکاشیوچ نے ایک بیان میں کہا کہ ''سلامتی کونسل کو بائی پاس کرکے خطے میں فوجی مداخلت کے لیے بے بنیاد جواز تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس سے شام میں نئے مسائل پیدا ہوں گے اور اس کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے دوسرے ممالک پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے''۔

ترجمان نے امریکا اور عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی سختی سے پاسداری کریں اور خاص طور پر اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے۔