اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف فوجی کارروائی پرغور

شام کو مغربی جارحین کا قبرستان بنا دیا جائے گا: وزیراعظم وائل الحلقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت کے لیے برطانیہ کی پیش کردہ قرارداد کے مسودے پر غور کیا گیا ہے۔

نیویارک سے العربیہ کے نمائندے طلال الحاج نے اطلاع دی ہے کہ ویٹو اختیار کے حامل ممالک برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا کے نمائندوں نے بند کمرے کے اجلاس میں مجوزہ قرارداد کے مسودے پر تبادلہ خیال کیا ہے جبکہ روس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس قرارداد کی مخالفت کرے گا۔

برطانیہ نے شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ردعمل میں اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت قرارداد پیش کی ہے۔ اس باب میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل بین الاقوامی امن اور سلامتی کے قیام کے لیے رکن ممالک کی زمینی، فضائی اور بحری افواج کے ذریعے کارروائی کرسکتی ہے۔

روس نے برطانوی قرارداد کے مجوزہ مسودے کی مخالفت کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ روس اور چین اس سے پہلے بھی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف قدغنیں عاید کرنے کے لیے پیش کردہ تین قراردادوں کو ویٹو کرچکے ہیں۔

روس کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کو اقوام متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کی تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے اور اس کے بعد شام کے خلاف کسی اقدام کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ درایں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ معائنہ کاروں کو اپنے کام کی تکمیل کے لیے مزید چار دن درکار ہوں گے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر شام کے خلاف فوجی کارروائی نہیں ہوسکتی ہے۔

انھوں نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میرے خیال میں اس حوالے سے عالمی قانون واضح ہے اور سلامتی کونسل کے کسی فیصلے کے بغیر فوجی کارروائی کی جانی چاہیے''۔

ادھرشامی وزیراعظم وائل الحلقی نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ کی دھمکیوں کے ردعمل میں کہا ہے کہ غیرملکی فوجی جارحیت کی صورت میں شام کو جارحین کا قبرستان بنا دیا جائے گا۔ انھوں نے مغرب پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ حملے کے لیے جواز تلاش کررہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام اپنے دفاع سے جارحین کو حیران کردے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح اس نے 1973ء کی یوم کپور کی جنگ میں حیران کیا تھا۔ عرب فورسز نے اسرائیل کو نہتا کردیا تھا اور جارحین کا قبرستان بنا دیا تھا۔

شامی وزیراعظم نے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ ''مغربی طاقتوں کی دھمکیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتی ہیں کیونکہ شامی عوام پرعزم ہیں اور وہ اپنے ساتھ ناروا سلوک کو قبول نہیں کریں گے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں