اپوزیشن رہ نماؤں کے قتل میں"انصارالشریعہ" ملوث ہے: تیونسی وزیراعظم

وزارت عظمیٰ کا منصب چھوڑنے کا مطالبہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تیونس کے وزیراعظم علی العریض نے اپوزیشن کی جانب سے وزارت عظمیٰ کےعہدے سے استعفیٰ دینے اور نگران حکومت کے قیام کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے. انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن رہ نماؤں شکری بلعید اور محمد البراہیمی کے قتل میں شدت پسند تنظیم "انصار الشریعہ" ملوث ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزیراعظم تیونس علی العریضی نے وزیراعظم ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب میں اپوزیشن کے نیشنل سالویشن فرنٹ اور جنرل الائنس کی جانب سے استعفے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کسی نئے 'سیٹ اپ' کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ موجودہ حکومت ہی اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی قانون ساز کونسل کو اپنے تمام تراختیارات کے ساتھ جمہوریت کے سفر کو آگے بڑھانے کی مساعی جاری رکھنی چاہئیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ رواں سال کے آخر تک عام انتخابات کرائیں گے تب تک عبوری حکومت کی تمام ذمہ داریاں ان کی کابینہ ہی نبھائے گی۔

وزیراعظم العریض نے حکمراں اسلام پسند جماعت کے سربراہ علامہ راشد الغنوشی کی اس تجویز کی بھی حمایت کی جس میں انہوں نے انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے الیکشن سے قبل"انتخابی حکومت" کے قیام کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے آخر تک وہ اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے کوئی قدم اٹھائیں گے۔

وزیراعظم ہاؤس میں صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم علی العریض نے کہا کہ ان کی حکومت نے سلفی جہادی تنظیم" انصارالشریعہ" کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، کیونکہ اپوزیشن رہ نماؤں کے قتل میں اس گروہ کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کی تحقیقات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ "انصارالشریعہ" سیاسی رہ نماؤں اور اپوزیشن لیڈروں کے قتل عام سمیت دہشت گردی کی کئی دوسری کارروائیوں میں بھی ملوث ہے۔ اپوزیشن رہ نما شکری بلعید اور محمد البراہیمی کو بھی اسی تنظیم نے قتل کیا ہے۔ نیز یہ تنظیم سیکیورٹی فورسز پر بھی حملے کرتی رہی ہے۔ جبل الشعانبی میں تیونسی فوجیوں پر قاتلانہ حملہ اور کئی فوجیوں کی ٹارگٹ کلنگ میں انصارالشریعہ کا ہاتھ تھا۔

مسٹر العریض کا کہنا تھا کہ حکومت نے انصار الشریعہ اوراس کی ذیلی شاخوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ انصارالشریعہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک گروپ کا کام معلومات جمع کرنا ہے اور دوسرا تنظیم کا عسکری ونگ ہے جو اسلحہ ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ تخریبی کارروائیوں کا بھی ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2011ء کے آغاز میں تیونس کےسابق مرد آہن زین العابدین بن علی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد دوسالہ عبوری سیٹ بنانے کے لیے انتخابات ہوئے تھے جن میں اسلام پسند جماعت'تحریک النہضہ' نے کامیابی حاصل کر کے حکومت بنائی تھی۔ النہضہ کی حکومت کو سیکولر اپوزیشن اور دیگرطبقات کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔

مصرمیں اخوان المسلمون کی حکومت کے خاتمے کے بعد اب تیونس میں بھی اسلام پسندوں کی حکومت خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔ اپوزیشن اتحاد نے وزیراعظم علی العریض سے عہدہ چھوڑنے اور فوری طورپر نئی نگراں حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاہم وزیراعظم نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں