ایران نے شام کے بارے میں "ثالثی" کی عالمی کوششیں مسترد کردیں

شام پر حملے کو ایران پر حملہ تصور کیا جائے گا: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران نے شام کے بارے میں اپنے اصولی موقف پر قائم رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے دمشق سے متعلق عالمی ثالثی کی مساعی مسترد کر دی ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ موقف ایک ایسے وقت میں اختیار کیا گیا ہے جب امریکا اور اس کے اتحادی دمشق کے قریب الغوطہ کے مقام پر کیمیائی حملے کے بعد بشارالاسد کے خلاف باقاعدہ جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے شام کے بارے میں پالیسی تبدیل کرانے کے لیے خلیجی ملک سلطنت آف اومان کے فرمانروا سلطان قابوس بن سعید اور یو این سیکرٹری جنرل بین کی مون کے معاون خصوصی جیفری فیلٹمن کی تجاویز مسترد کر دی ہیں۔ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ تہران دمشق کے حوالے سے اپنی حکمت عملی تبدیلی نہیں کرے گا اور شام پر حملہ ایران پر حملہ تصور ہو گا۔

ایرانی حکومت کو قائل کرنے کی عالمی مساعی کو اسرائیلی میڈیا نے غیر معمولی کوریج دی ہے۔ اسرائیلی اخبارات اور نیوز پورٹلز کی رپورٹس کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنے دیرینہ اتحادی بشارالاسد کے حوالے سے موقف تبدیل کرنے پر قائل نہیں کیا جا سکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای نے اومان کے فرمانروا سلطان قابوس سے ملاقات میں کہا کہ "شام پرحملہ ہوا تو پورا مشرق وسطیٰ آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا"۔

ایرانی نیوز ویب پورٹل "تابناک" نے اپنی رپورٹ میں اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ اختلافات کے باوجود امریکی صدر براک اوباما شام کے معاملے پرایران کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر کو بھی یہ خدشہ ہے کہ ایران کے عالمی برادری سے عدم تعاون کے باعث بیرونی حملہ ناکام بھی ہو سکتا ہے اور اس کے پورے مشرق وسطیٰ پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام پر حملے کی دھمکیوں کے بعد خطے کے دیگرممالک نے بھی اپنی فوجیں چوکس کر دی ہیں۔

ادھر اسرائیلی فوج کی مقرب خیال کی جانے والی نیوز ویب سائٹ "ڈیبکا فائل" کے مطابق امریکا نے اومان کے سلطان سلطان قابوس اوراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کے معاون خصوصی سابق سفارت کار جیفری فلٹمن کوثالث بنا کر ایران بھیجا تھا۔ دونوں رہ نما دو دن تک ایران میں رہے جہاں انہوں نے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای، صدر حسن روحانی اور وزیرخارجہ محمد جواد ظریف سمیت کئی اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ سلطان قابوس اور جیفری فلٹمن نے ایرانی قیادت تک عالمی برادری کا پیغام پہنچایا لیکن وہ شام کے بارے میں موقف تبدیل کرنے پر انہیں قائل نہیں کر سکے ہیں۔

ایرانی وزیرخارجہ مسٹر جواد ظریف نے خبر رساں ایجنسی"ارنا" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "ہم اومان کے فرمانروا سلطان قابوس بن سعید کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں لیکن انہیں یہ بات ہرگز زیب نہیں دیتی کہ وہ شام کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کریں"۔

وزیرخارجہ کہہ رہے تھے کہ امریکا اورایران کے درمیان براہ راست رابطوں کے فقدان کے باعث ہمارے بعض دوست ممالک واشنگٹن کا پیغام لے کر ہمارے پاس آتے ہیں۔ ہم ان کا نقطہ نظر سنتے ہیں پھر انہیں اپنا موقف بتا کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ اومان کے سلطان قابوس بھی امریکا کا پیغام لے کرآئے تھے اور تہران کا پیغام لے کر واپس چلے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ عرب ریاست سلطنت اومان کے فرمانروا الشیخ سلطان قابوس گذشتہ اتوار کو دو روزہ دورے پر تہران پہنچے تھے۔ ان کی آمد کا مقصد شام کے بارے میں ایران کے موقف میں تبدیلی لانا اور انہیں دمشق کے خلاف عالمی جنگ کے خطرات سے آگاہ کرنا تھا۔ اسی دوران 'یو این ' سیکرٹری جنرل بین کی مون کے معاون خصوصی بھی اسی نوعیت کے مشن کے ساتھ تہران پہنچے تھے مگر وہ بھی ناکام واپس لوٹے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں