بھارت گینگ ریپ، ملزمان میں پولیس کا مخبر بھی شامل

ایک ملزم کو نابالغ قرار دے دیا، کمشنر کا اظہار شرمندگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی پولیس کے اعلی افسر ستیاپال سنگھ نے گزشتہ روز انتہائی شرمساری سے یہ انکشاف کیا ہے کہ خاتون فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے میں ملوث پانچ ملزمان میں سے ایک ملزم پولیس کا اپنا آدمی تھا، جس سے پولیس علاقے میں مخبری کا کام لیتی تھی.

ممبئی میں گزشتہ ہفتے جنسی زیادتی کا شکار فوٹو جرنلسٹ کے حق میں مظاہروں اور عوام میں غصے کی فضا میں انکشاف سے مزید اضافہ ہو گیا ہے کہ پولیس کی چھتری استعمال کرنے والے پولیس کی شہ کے باعث خواتین کے لیے وحشیانہ کردار کے حامل ہیں۔ بھارتی پولیس کے اس واقعے میں مخبر کے ملوث ہونے کی اطلاعات کے بعد تفتیش پر بھی سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ آیا بھارتی پولیس اس کیس کو اپنے منطقی انجام تک پہچائے گی اور کیا اس ظلم کا شکار فوٹو جرنلسٹ کے انصاف کیا جائے گا.

بھارتی پولیس نے بظاہر پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعے کے 12 گھنٹوں بعد ایک ملزم کو گرفتار کیا۔ گرفتار کیے گئے اجتماعی زیادتی کے ملزم کا ایک ایسا پیدائشی سرٹیفیکیٹ ظاہر کیا گیا ہے کہ جس میں اسے نابالغ بتایا گیا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ بھارتی قانون کا سہارا لیکر پولیس کے مخبر اور دیگر ملزمان کو بدنامی سے بچانے کے لیے آئندہ ان کے میڈیا میں نام شائع ہونے کو چیلنج کر دیا جائے گا، جبکہ متاثرہ خاتون فوٹو جرنلسٹ کے حوالے سے اب تک بھارتی میڈیا نے کوئی پوشیدہ نہیں رکھی ہے۔

پولیس چیف نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں اعتراف کیا کہ پولیس کا ایسا رویہ بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں کمی کے بجائے اضافے کا باعث بنے گا۔ اگر ہمیں اپنے دیش میں بڑھتے ہوئے جرائم کو ختم کرنا ہے تو بھارتی پولیس کو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

واضح رہے کہ بھارتی پولیس نے ممبئی کے وسط میں گزشتہ ہفتے ایک فوٹو جرنلسٹ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والے مشتبہ 5 ملرمان کو 70 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔ شکتی ملز کے علاقے میں 22 سالہ فوٹو جرنلسٹ اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئی جبکہ اس وقت اس کے ساتھی دوست رپورٹر کو ملزمان نے ایک بیلٹ کے ساتھ باندھ دیا تاکہ وہ اپنی دوست فوٹو جرنلسٹ کی مدد نہ کر سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں