جنوبی فارس گیس پیداوار ''ایشو'' ایران کو قطر کا تعاون درکار

قطر دنیا کے امیر ترین مملاک میں شامل، ایران پابندیوں کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے اقتصادی پابندیوں سے پیدا شدہ مسائل میں کمی لانے کے لیے قطر کے ساتھ زیرخلیج علاقے میں مشترکہ گیس فیلڈ کا سہارا لینے کیلیے سوچنا شروع کر دیا ہے۔ ایران کے نئے وزیر توانائی بیجان نمدار کے مطابق ایران گیس کی پیداوار بڑھانے کے لیے قطر کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔

اربوں ڈالر مالیت کی قدرتی مائع گیس کی فروخت نے جغرافیائی اعتبار سے چھوٹے ملک قطر کو دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل کر دیا ہے۔ اس حوالے سے مغربی ملکوں نے قطر کو ایل این جی کی فیلڈ سے جہازوں میں منتقلی کے لیے جدید ٹیکنالوجی بھی فراہم کی ہے۔ ان ممالک نے قطر پر اس ٹیکنالوجی کو ایران کے ہاتھ کرنے سے بھی سے روک رکھا ہے۔

مغربی ممالک کی اقتصادی پابندیوں نے ایران کو دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ سے اپنا حصہ لینے سے روکا ہوا ہے۔ ایران کی غیر ملکی ٹیکنالوجی اور مہارتوں تک رسائی میں مشکلات نے ایران کو جنوبی فارس سے پیداوار بڑھانے میں مزید سست کر دیا ہے۔ حالانکہ ایران نے اس گیس فیلڈ کو اپنی ترجیح بنا رکھا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر توانائی نے ریاستی ٹیلی ویژن پر کہا ہے کہ'' اگر ایران اپنی پیداوار بڑھاتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ قطر ایران سے تعاون پر آمادہ ہو جائے۔''

ایرانی وزیر خارجہ برائے توانائی نے مزید کہا '' ہم قطر کے ساتھ اس سلسلے میں بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن سوال یہ ہو گا کہ قطر بھی تعاون کے لیے راضی ہوتا ہے، جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہماری ترجیح اس مشترکہ گیس فیلد سے گیس کا حصول ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں