امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شام پرحملے کے انتظامات مکمل کر لیے

اتحادی ممالک کی فضائیہ اور نیوی جدید جنگی وسائل سے لیس ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں ایک ہفتہ قبل شہریوں پر کیمیائی حملے کے ردعمل میں تین اتحادی ملکوں امریکا، برطانیہ اور فرانس نے صدر بشارالاسد کو 'سبق سکھانے' کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تینوں اتحادی ممالک کی بحری اور فضائی فوج جدید وسائل حرب و ضرب سے لیس ہیں۔ ان کی جانب سے جنگ کی تیاریاں مکمل ہیں۔ شام پرحملے کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ نہیں رہی ہے۔ بس ایک نظرانتظامات کو دیکھنے کے بعد شام کے خلاف ممکنہ کارروائی شروع ہوسکتی ہے۔

شام پرممکنہ حملے کا آغاز یہ تین اتحادی ممالک ہی کریں گے مگر جنگ چھڑتے ہی شام مخالف دیگرقوتیں بھی میدان میں اتر آئیں گی۔ اس وقت امریکا، فرانس برطانیہ کی مسلح افواج نے شام کے قریب اپنے لڑاکا جہاز بردار بحری بیڑے پہنچا دیے ہیں اور انہوں نے شام میں اہم فوجی اہداف کا بھی تعین کرلیا ہے۔

شام کے تعاقب کے لئے بحیرہ روم میں ٹام ہاک میزائیلوں سے لیس امریکا کے چار بحری بیڑے USS Gravely, The USS Barry, The USS Rampage and The USS Mahan اپنی جنگی پوزیشنیں سنھبال چکے ہیں۔

ادھر خلیجی پانیوں میں بھی امریکا کے دو جنگی بیڑے اور بحری جنگی جہازوں پر مشتمل دو مشن کسی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ بحر ہند کے شمال میں"یو ایس ایس ہیری ٹرومین" جنگی کشتیوں کے ہمراہ اپنی پوزیشن پر چوکسی کی حالت میں ہے۔

یوں امریکا کی قیادت میں لڑی جانے والی ممکنہ جنگ میں سب سے زیادہ جنگی وسائل بھی واشنگٹن ہی نے مہیا کیے ہیں۔ بحیرہ روم میں برطانیہ کی سب سے بڑی طاقت اس کے کروز میزائل ہیں۔ ماہرین کے مطابق شام کے خلاف کسی کارروائی میں یہ میزائل بڑے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جزیرہ قبرص میں برطانوی فضائی اڈہ "اکروٹری" غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے، جہاں سے شام میں اپنے اہداف پرحملوں کے لیے برطانوی جنگی ہوائی جہاز اڑان بھرسکتےہیں۔

فی الوقت جنگ میں امریکا کے تیسرے اتحادی فرانس کے پاس جنگی آبدوزیں اور جنگی ہیلی کاپٹر اہم ترین اسلحہ ہے۔ ان کے علاوہ فرانس نے اضافی تیاریوں کے طورپر طیاروں سے داغے جانے والے"اسکالپ" میزائل بھی جنگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانس کے"میراج 2000" لڑاکا طیارے افریقی ملک جیبوتی اور "راوال" طیارے ابوظہبی میں اپنےاڈوں پر الرٹ کردیے ہیں۔

ابتدائی طورپر یہ ممالک ترکی میں"ازمیر" اور"انجرلیک" ہوائی اڈوں کو استعمال کرسکتے ہیں۔ امریکی "ایف سولہ" لڑاکا طیارے اردن میں بھی موجود ہیں جہاں حصہ بہ قدر جثہ وہ بھی حملے کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں