امریکی بحریہ کا پانچواں جنگی بحری جہاز شام کی جانب گامزن

شام کے خلاف محدود پیمانے پر امریکی حملے کی تیاریاں مکمل، ارکان کانگریس کا عدم اطمینان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی بحریہ نے شامی صدر بشارالاسد کے تحت تنصیبات پر ممکنہ میزائل حملے کے لیے اپنے پانچویں میزائل بردار جنگی جہاز کو بحیرہ روم میں شام کے نزدیک بھیج دیا ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے بتایا ہے کہ گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائیر یو ایس ایس اسٹاؤٹ اس وقت بحیرہ روم میں موجود ہے اور وہ مشرق کی جانب رواں دواں ہے۔ وہ وہاں جنگی بحری جہاز یو ایس ایس مہان کی جگہ لے گا۔ تاہم یہ دونوں جہاز فی الوقت بحیرہ روم ہی میں موجود رہ سکتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ردعمل میں اس کے خلاف محدود فوجی کارروائی کی وکالت کررہے ہیں اور وہ بعض ذرائع کے مطابق اس کا حکم دینے ہی والے ہیں لیکن بعض ارکان کانگریس شام پر فوجی چڑھائی کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان سے مناسب مشاورت نہیں کی گئی ہے۔

صدراوباما کی قومی سلامتی کی مشیر سوسان رائس، وزیردفاع چک ہیگل، وزیرخارجہ جان کیری اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جان کلیپر آج جمعرات کو کانگریس کو شام کے خلاف جنگی منصوبے کے بارے میں بریف کرنے والے تھے۔

امریکی صدر نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں شام کے خلاف فوجی آپشنز کے بارے میں آگاہ کردیا گیا ہے لیکن انھوں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے امریکا کے قومی مفادات پر اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس کے خلاف محدود فوجی کارروائی سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی راہ روکی جاسکے گی۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کو یقین ہے کہ شامی حکومت نے ایک ہفتہ قبل دمشق کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ کیا تھا اور انھیں یہ یقین نہیں ہے کہ شامی حزب اختلاف کے پاس بھی کیمیائی ہتھیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں