دو باوردی اسرائیلی فوجی اسلحے سمیت نائٹ کلب پہنچ گئے

فلسطینیوں کے ساتھ گھلنے ملنے کی اسرائیلی فوجیوں کو اجازت نہیں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے چند فوجیوں کو وردی اور اسلحے کے ساتھ مغربی کنارے کے شہر ہبرون میں رقص و سرور کے باعث معطلی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ دونوں فوجیوں نے بعض مقامی فلسطینیوں کے ساتھ مل کر نائٹ کلب میں ناچ گانا کیا تھا۔

اسرائیل نے سرکاری طور پر ایک ویڈیو فلم جاری کی ہے جس میں ہیلمٹ پہنے ہوئ ےدو اسرائیلی فوجی دکھائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ میں رائفل بھی موجود ہے اور وہ کسی فلمی ہیرو کی طرح رقص کر رہا ہے۔

اس فلم میں جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس بعض فلسطینی نوجوانوں کو بھی دکھایا گیا ہے جو ان فوجیوں کے ساتھ ایک مشہور راک دھن پر ناچ رہے ہیں۔

ویڈیو میں ایک فلسطینی نوجوان کو یہودی فوجی کو کندھوں پر اٹھا کر ککلی ڈالتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ فوجی کے ہاتھ میں اسکی رائفل ہے اور باقی افراد انکے ارد گرد ناچ رہے تھے۔ بظاہر یہ ڈانس مجبوری میں کیا گیا نہیں لگتا۔

رپورٹ کے مطابق رات کے وقت دواسرائیلی فوجی پیدل گشت کے دوران دبے پائوں شہر کے ایک مسلم اکثریتی علاقے میں قائم نائٹ کلب میں داخل ہو گئے۔ یاد رہے کہ یہ علاقہ فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان مستقل کشیدگی کا مرکز رہتا ہے اور اس علاقے میں فلسطینی زیادہ تعداد میں آباد ہیں ۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ فوج "اس وقعے کو ایک سنجیدہ واقعہ کے طور پر دیکھتی ہے"۔ بیان میں مزید کہا کہ فوجیوں نے غیرضروری خطرہ مول لیا، اس لیے انہیں اسکی سزا دی گئی۔ ٹی وی خبروں کے مطابق ان فوجیوں کو تفتیش مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے عسکری قواعد و ضوابط کے مطابق فوجیوں کو ڈیوٹی کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ جان پہچان بنانے اور اپنے حفاظتی اقدامات ترک کرنے سے منع کیا جاتا ہ ۔ کچھ عرصہ قبل اسی شہر میں چند فوجیوں کو پیدل گشت کے دوران "فلیش ماب سٹائل ڈانس" فلمانے کے الزام میں سزا سنائی جا سکی ہے۔

اسرائیل نے 1967ء کی عرب اسرائیلی جنگ میں مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا جہاں فلسطینی اپنی ایک الگ ریاست قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور گزشتہ ماہ تین سال کے وقفے کے بعد امریکی حمایت یافتہ امن مذاکرات کی بحالی کا بھی یہی مقصد بتایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں