شام: طبل جنگ کا انتظار، فضائی اور بحری نقل و حرکت

برطانوی جنگی طیارے اور روسی بحری جنگی رواں دواں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جوں جوں شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے باعث شام کو سبق سکھانے کی بات عالمی سطح پر آگے بڑھ رہی ہے، شام کےارد گرد سامان حرب کی نقل وحرکت میں تیزی آ رہی ہے۔

ماسکو سے خبر آئی ہے کہ روس شام کی مدد کے لیے دو بحری جنگی جہاز روانہ کرے گا۔ روسی بحری جہاز شامی بحریہ کی تقویت کا ذریعہ بنیں گے اور شام میں سمندر کے مشرقی علاقوں میں موجود رہیں گے۔ ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شام پر متوقع امریکی حملے کے پیش نظر شام کی پیشگی مدد کے لیے بظاہر یہ پہلی بڑی کوشش ہے۔

روسی بحریہ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایک سب میرین شکن اور دوسرا کروز میزائل بردار جہاز آئندہ دنوں شام روانہ کیا جا رہا ہے، تاہم روسی وزارت دفاع کے متعلقہ حکام اس امر کی تصدیق یا تردید کے لیے دستیاب نہ تھے۔

دریں اثناء برطانیہ نے اپنے چھ آر اے ایف ٹائیفون جیٹ طیارے قبرص میں اپنے ائیربیس سے شام کے قرب و جوار میں بھجوا دیے ہیں۔ برطانوی وزارت دفاع نے بتایا گیا ہے کہ یہ طیارے شامی علاقے میں برطانوی مفادات کا تحفظ کریں گے۔ '' یہ اقدامات خالصتا چو کسی اور حفظ ما تقدم کے لیے کیے گئے ہیں، تاکہ برطانوی مفادات کا تحفظ ہو سکے۔'' برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ طیارے براہ راست شام کے خلاف کارروائی کا حصہ نہیں ہوں گے۔

واضح رہے امریکی بحری یبیڑا پہلے ہی شام کی طرف روانہ ہو چکا ہے، جبکہ اسرائیل نے دفاٰعی میزائل نظام کو الرٹ کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں