شام پر حملے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا: باراک اوباما

"بشار الاسد حکومت یقیناً کیمیائی حملے میں ملوث ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ دارلحکومت دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ پر کئے جانے والے کیمیائی حملے میں شامی حکومت ملوث ہے، تاہم ابھی شام پر حملے کا فیصلہ نہیں کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز امریکی چینل 'پی بی ایس' کے پروگرام 'نیو آور' میں انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ صدر باراک اوباما کے بقول شام کو کہا جائے گا کہ وہ آیندہ کیمیائی ہتھیاراستعمال نہ کرے کیونکہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے امریکی مفادات متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قوانین کیمیائی اسلحے کے استعمال سے روکتے ہیں۔ شام کے خلاف فوجی کارروائی کیمیائی ہتھیاروں کو استعمال کو خطرناک ثابت کرنے میں اہم پیغام ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بشار الاسد نے اپنے عوام کو انتہائی سرد مہری کے ساتھ موت کے نیند سلایا ہے۔ شام کے پاس خطے میں سب سے زیادہ کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے۔ امریکا کے پاس شام کے خلاف فوجی آپشن کے علاوہ دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

اس سے قبل برطانیہ نے ایک مجوزہ قراداد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے سامنے پیش کی جس میں شام میں عام شہریوں کو بچانے کے لیے تمام اقدامات کی اجازت‘ کی بات کی گئی ہے۔

اس قرادار میں برطانیہ نے شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے ’ناقابلِ تسلیم‘ استعمال کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس سے قبل ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’ہم نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل شام سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے‘۔

دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو اپنی تحقیقات کو ضرور مکمل کرنا چاہیے اس سے قبل کے کسی قرادار پر غور کیا جائے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک معائنہ کاروں کی رپورٹ سامنے نہیں آ جاتی تب تک کوئی قراداد کا مسودہ زیر غور نہیں لایا جانا چاہیے. روس اور چین اس سے قبل شام کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کر چکے ہیں۔ شام نے مغرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فوجی حملے کے لیے بہانے ’ایجاد‘ کیے ہیں۔

شامی وزیر اعظم وائل الحلاقی نے شام کے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ’امریکہ سے لے کر تمام مغربی ممالک جعلی منظر نامے اور افسانوی عذر تراش رہے ہیں تاکہ شام میں فوجی مداخلت کی جا سکے‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں