فورٹ ہڈ فائرنگ: امریکی میجر نضال حسن کو سزائے موت سنا دی گئی

مقدمے کی سماعت میں نضال نے خود ہی اپنا دفاع کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی فوجی ماہر نفسیات ڈاکٹر نضال حسن کو 2009 میں ریاست ٹیکسس میں 13 فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے جرم میں موت کی سزا دی گئی ہے۔ میجر نضال حسن کو سزائے موت دینے کا فیصلہ ایک فوجی جیوری نے سنایا۔

بدھ کے دِن سزا سنانے سے قبل، 13 ارکان پر مشتمل جیوری نے کچھ دیر تک آپس میں مشورہ کیا۔ امریکا میں پیدا ہونے والے میجر نضال حسن نے دو ہفتے تک جاری رہنے والی مقدمے کی کارروائی کے دوران بظاہر موت کی سزا کی خواہش کی تھی۔

حسن کے بقول، عراق اور افغانستان میں امریکا کی لڑائی کے سلسلےمیں اُنھوں نے اپنی ’ہمدردیاں تبدیل کیں‘۔ اُنھیں قتل عمد کا جرم ثابت ہونے پر سزا دی گئی، جن کے فوجی ساتھی اِن دو جنگی محاذوں میں تعیناتی کے بعد روانگی کی تیاری میں تھے۔

اُن کے بقول، اُنھوں نے یہ حملہ اِس لیے کیا تا کہ بیرون ملک مسلمان باغیوں پر ہونے والے حملوں کو روکا جا سکے۔

کرنل مائیک مُلیگان پر مشتمل مقدمے کے فوجی استغاثے نے جیوری سے استدعا کی تھی کہ شوٹنگ کے حملے کی پاداش میں حسن کو موت کی سزا سنائی جائے، جس واقعے میں اُنھوں نے دیگر 30 سے زائد افراد کو بھی زخمی کیا۔

جیوری سے مخاطب ہوکر، ملیگان نے کہا کہ، ’حسن نہ آج شہید ہے اور نہ کبھی شہید بن سکتا ہے۔ وہ ایک مجرم ہے۔ اُس نے قصداً قتل کا ارتکاب کیا‘۔
پیشی کے دوران، حسن نے اپنا دفاع خود ہی کیا، صفائی میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور اپنی گواہی سے انکار کیا۔

اُنھوں نے تسلیم کیا کہ اُنھوں نے ہی گولیاں چلائیں، اور جوں جوں کیس تکمیل کے قریب پہنچا، اُنھوں نے جیوری سے کہا کہ، ’مجھے کوئی آخری بیان نہیں دینا‘۔

مقدمے میں ایک مرحلے پر، اُن کے قانونی مشیروں نےکہا کہ بیالیس برس کے حسن اپنے خلاف لگنے والے الزامات کا جواب دینے کے سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر رہے، کیونکہ، اُن کے خیال میں، وہ قتل عمد پر سزا پانا چاہتے ہیں، تاکہ اُنھیں موت کی ہی سزا ہو۔

جس جیوری نے اُنھیں سزا سنائی، اُسی نے اُنھیں تمام 45 الزامات میں قصور وار ٹھہرایا تھا، جس سے قبل عدالت کے سامنے گواہان کی شہادتیں پیش اور قلم بند ہوئیں، جن میں بتایا گیا کہ کس طرح فورٹ ہُڈ کے میڈیکل سینٹر میں، نضال حسن نے فوجیوں پر سوچ سمجھ کر گولیاں چلائیں۔

موت کی سزا زہر کے انجکشن کے ذریعے دی جاتی ہے، جس پر ازخود نظر ثانی ہو سکتی ہے جس میں کئی برس لگ سکتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کی منظوری بالآخر امریکی صدر کو دینی ہوتی ہے۔ ایک متبادل کے طور پر، جیوری حسن کو عمر قید کی سزا دے سکتی تھی۔

امریکی فوج میں موت کی سزا شاذ و نادر دی جاتی ہے۔ اس وقت، موت کی سزا کے منتظر مجرموں کی کُل تعداد پانچ ہے۔ آخری امریکی فوجی کو 1961ء میں موت کی سزا دی گئی تھی۔

ادھر، ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، نضال حسن نے کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران اپنے دفاع میں کوئی خاص حصہ نہیں لیا اور، آج جب جیوری کا سربراہ تحریر شدہ فیصلہ سنا رہا تھا، نضال حسن کے چہرے پر کسی طرح کا کوئی تاثر نہیں تھا۔

وہ کہہ چکے ہیں کہ اُنھوں نے یہ عمل بیرون ملک مسلمان باغیوں کو، اُن کے بقول، ’امریکی جارحیت‘ سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا، اور کبھی گولیاں چلانے کا انکار نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں