گرمیوں میں چار ارب پاوںڈ کمائے، عربوں کا ایک ارب کا خرچہ

لندن: سیاحتی اعتبار سے برطانیہ کا اہم کماو پوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read


ابتدائی تخمینے کے مطابق رواں سال موسم گرما کے دوران لندن میں مجموئی طور پر چار ارب پاونڈ کی خریداری کی گئی ہے ۔ لندن پہنچنے والے سیاح جن میں پاکستان کا حکمران طبقہ اور اشرافیہ بھی شامل ہیں کمائی کا اہم ذریعہ بنے ہیں ۔ پچھلے سال کے اعدادو شمار کی بنیاد پر لگائے گئے تخمینے کے مطابق لند میں دولت خرچ کرنے والوں میں بڑا حصہ عرب سیاحوں کا بتایا جارہا ہے جو کہ اندازے کے مطابق تقریبا 1٫3 ارب پائونڈ ہے۔
برطانوی کمرشل ایسوسی ایشن کی طرف سے جاری کئے گئے اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ رواں سال گرمیاں ٹھنڈی کرنے کے لیے آنے والے غیر ملکیوں جن میں فیملی کے ساتھ آنے والے بھی بڑی تعداد میں شامل ہے، کی وجہ سے مجموعی طور پر 36 فیصد زیادہ سیلز ہوئی ہیں۔
ان سیلز میں سب سے بڑا حصہ عرب سیاحوں کا ہے۔ تنظیم کے مطابق ایک عام سعودی سیاح کی صرف کرنے کی صلاحیت تقریبا 2487 پائونڈ ہے جبکہ اس کے بعد دوسرا نمبر اماراتی سیاحوں کا ہے جو کہ عام طور پر 2395 پائونڈ فی سیاح خرچ کرتے ہیں۔ ان کے بعد کویتی سیاح ہیں جو کہ 1965 پائونڈ خرچ کرتے ہیں، پھر روسی سیاحوں کا نمبر آتا ہے جو کہ 1169 پائونڈ خرچ کرتے ہیں اور پھر سنگاپور کے سیاح ہیں جو کہ 980 پائونڈ خرچ کرتے ہیں۔
خریداری کے اس رجحان میں اضافے کی وجہ سے لندن میں ملازمتوں کی شرح میں 13٫5 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ برطانیہ میں عرب سیاحت کے اس فروغ کی وجہ سے ناصرف دکانوں اور دوسرے کاروباروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے بلکہ شعبہِ میزبانی کے منافع میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مرکزی لندن کے معروف ہوٹل "دی لیونارڈ ہوٹل ماربل آرچ" کے تعلقات عامہ کے افسر سائمن جیک نے بتایا ہے کہ خلیجی ممالک خاص طور سعودی، اماراتی اور اسکے ساتھ ساتھ لیبیا کے شہری گرمیوں کا زیادہ عرصہ لندن میں گزارتے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ خاندان تو تین تین ماہ ایک ساتھ لندن میں ہی گزار دیتے ہیں۔
ان سارے معاملات کو دیکھتے ہوئے بہت سارے ہوٹلوں نے عربی زبان میں اپنی خدمات پیش کر دی ہیں اور نماز کے لئے جگہ مختص کردی ہے۔ سائمن جیک کے مطابق،"پچھلے سال اندازوں کے مطابق صرف سعودی سیاحوں نے لندن کے ہوٹلوں میں رہائش پر 78 ملین [سات کروڑ 80 لاکھ] پائونڈ خرچ کر ڈالے تھے جبکہ اس سال یہ خرچ بڑھ کر 93 ملین سے لے کر 101 ملین پائونڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔"
سیاحت سے سب سے زیادہ فائدہ برطانوی حکومت کو ہوتا ہے جو کہ خلیجی ممالک کے سیاحوں کی چھٹیوں میں کئے جانے والے خرچ سے سب سے زیادہ کمائی کرتی ہے۔ برطانوی حکومت کے ریونیو اور کسٹمز کے شعبے کے ماہرِ ٹیکس پیٹر ڈے کے مطابق خلیجی سیاحوں سے ہونے والے ٹیکس کی کمائی کو برطانوی معیشت کے مختلف ضمروں ڈالا جاتا ہے۔ دیگر ممالک کے سیاح برطانوی قانون کے مطابق اپنے ملک واپسی پر ٹیکس کی رقم وصول کر لیتے ہیں مگر خلیجی سیاح اس بات کی پرواہ نہیں کرتے اور بغیر کچھ واپس لئے چھٹیاں منا کر گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں