.

الجزائر اور لیبیا سے متصل تیونسی سرحدی علاقے"نوگو" ایریا قرار

اقدام سرحد پار سے اسلحہ اسمگلنگ روکنے کے لئے اٹھایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس نے اپنے پڑوسی ملکوں لیبیا اور الجزائر کی سرحدوں سے اسلحہ کی مبینہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سرحدی علاقوں کو ایک سال کے لیے "نوگو ملٹری زون" قرار دے کر ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے سیل کردیا ہے۔ ایک سال کے بعد حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلے میں کسی قسم کی تبدیلی عمل میں لائی جائے گی ورنہ سرحد پار سے آمد و رفت پرپابندی جوں کی توں برقرار رکھی جائے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق تیونسی صدر منصف المرزوقی کی ہدایت پر یہ اقدام ملک میں امن وامان کو برقرار رکھنے بالخصوص ریاست القصرین کے الشعبانی پہاڑوں میں چھپے عسکریت پسندوں کو اسلحے کی سپلائی بند کرنا ہے، جو الجزائر اور لیبیا سے اسلحہ حاصل کرکے ملک میں تخریب کاری کر رہے ہیں۔ تیونس حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں سرگرم سلفی جہادی تنظیم "انصار الشریعہ" کے مغرب اسلامی کے ممالک میں موجود جنگجوں سے رابطے ہیں، جہاں سے اس تنظیم کو ہرقسم کی مدد مل رہی ہے۔

تیونسی وزیر دفاع رشید الصباغ نے صدر سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن وامان کی خراب ہوتی صورت حال کے پیش نظر صدر نے پڑوسی ملکوں الجزائر اور لیبیا سے متصل سرحدیں سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ خاص طور پر تیونس کے وسط مغرب میں واقع القصرین ریاست تخریب کاروں کی سرگرمیوں کا مرکز بنتی جا رہی تھی، جو الجزائر سے اسلحہ اسمگل کر کے ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سرحدوں کو 'نوگو ایریاز' قرار دینے کا فیصلہ ایک سال کے لیے کیا گیا ہے۔ ایک سال کے بعد حسب ضرورت اس میں توسیع جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو وہ دوسرے ملکوں سے متصل سرحدوں کو بھی سیل کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ تیونس کی لیبیا کے ساتھ سرحد 500 کلومیٹر جبکہ الجزائر کے ساتھ 1000 کلومیٹر طویل علاقے پر پھیلی ہوئی ہے۔ سنہ 2011ء کے اوائل میں سابق مفرور صدر زین العابدین بن علی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد دونوں پڑوسی ملکوں سے اسلحہ، منشیات اور دیگر غیرقانونی اشیاء کی اسمگلنگ عام ہوگئی تھی، جس پرحکومت کو سخت تشویش لاحق تھی۔