.

انڈونیشیا: حکومتی عہدیدار بھی عالمی مقابلہ حسن کیخلاف سرگرم

بکنی راونڈ منسوخ کر دیا گیا، برطانوی منتظمین کو نقصان کا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انڈونیشیا کے وزیر برائے مذہبی امور نے ملک کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم کے مطالبے تائید کرتے ہوئے حکومت سے اگلے ہفتے "بالی" میں شروع ہونے والے"مس ورلڈ '' کے انتخاب کے لیے مقابلہِ حسن روکنے کے لیے کہا ہے۔

سریادھرما علی کے مطابق مقابلہ حسن کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ ملک کے سب سے بڑی اسلامی تنظیم کے مشورے پر عمل کریں۔ گزشتہ ہفتے منتظمین مختصر ترین لباس والا "بِکنی رائونڈ '' ایسی خرافات روکنے کا علما کا مطالبہ جائز ہے۔

انڈونیشین علما کونسل نے مس ورلڈ مقابلے کے خلاف سخت ردِعمل کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ عالمی مقابلہ حسن میں خواتین کےاپنے جسم کے اظہار کی انڈونیشیا کی اسلامی اور سماجی روایات میں گنجائش نہیں ہے۔

یاد رہے کہ سریادھرما علی مقابلہِ حسن کے خلاف آواز بلند کرنے والے پہلے حکومتی عہدیدار ہیں۔ ان کے اس قدم نے عالمی مقابلہ حسن کے برطانوی منتظمین کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

وزیر مذہبی امورکا یہ بیان قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے کمشنر کے بیان کے ساتھ آیا جس میں انہوں نے اس مقابلے کو "عورتوں کے جسموں کی نمائش کرنے" کے مترادف کہا۔

مقامی منتظمین کو وزیرِ مذہبی امور کے اس بیان سے کوئی فرق نہ پڑا اور انہوں نے جواباً کہا کہ "اس معاملے سے وزیر موصوف کا کچھ لینا دینا نہیں" اس لیے عالمی مقابلہ حسن کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

مقامی منتظم آر سی ٹی آئی کے کارپوریٹ سیکرٹری عدجی ایس۔ سورتمادجی نے عالمی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "انڈونیشیا اسلامی ریاست نہیں ہے اور اس مقابلے کا تعلق کسی مذہب سے نہیں بلکہ ایک تہذ یب سے ہے۔" انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی وزیر اس مقابلہ حسن کی حامی ہیں۔ یاد رہے کہ انڈونیشیا ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے مگر اسکا قانون اسلامی طرز کا نہیں ہے تاہم ہیاں بہت سے مذاہب کی پیروی کی جاتی ہے۔

ماہ جون میں منتظمین نے اعلان کیا تھا کہ انڈونیشا میں کسی جھگڑے اور کشیدگی سے بچنے کیلئے '' بِکنی رائونڈ ''ختم کیا جا رہا ہے اوراسکی جگہ مقابلے میں حصہ لینے والی خواتین "بالینیز سارونگ" زیب تن کریں گی۔

تاہم اسلامی دفاعی محاذ اب تک مطمئن نہیں ہو سکا اور دارالحکومت کے نواحی علاقوں میں مظاہرے کرنے کی تیاریاں کر رہےہیں۔ یاد رہے کہ 28 ستمبر کو اسی مقام پر مقابلہِ حسن کا فائنل متوقع ہے۔

مقابلے کا آغاز 8 ستمبر کو ہندو اکثریتی جزیرے " بالی" میں ہوگا۔ بالی اپنے پرکشش ساحلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ جہاں دنیا بھر سے آنے والی خواتین سیاح چھوٹی بکنی پہن کر کئی مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود ساحل پراپنی مغربی روایت کے مطابق 'سن باتھ' کا مزہ لیتی ہیں۔ انڈونیشیا میں اسلامی تنظیمیں ماضی میں ایسے کئی غیر اسلامی پروگرام اور سرگرمیاں رکوا چکی ہیں۔

گزشتہ سال امریکی موسیقار لیڈی گاگا کو اپنے عالمی دورے سے انڈونیشیا کواسی وجہ سے خارج کرنا پڑا تھا کیونکہ ان کے لباس کو یہاں کے مسلمانوں نے غیر اخلاقی اور فحش لباس قرار دیا تھا۔