.

لڑکیوں میں موٹاپے اور کمردرد کی اہم وجہ اونچی ایڑی ہے

جوتی کی ایڑی یا درد کی سیڑھی ، شوق بنا '' شاک''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا آپ جانتے ہیں کہ مشرق یا مغرب کے امتیاز کے بغیردنیا کے تقریبا ہر خطے میں خواتین جن ایڑی والے جوتوں کے جوڑے شوق سے خریدتی اور پہنتی ہیں وہی ان کے"جوڑوں میں بیٹھ جاتے" ہیں۔ خوبصورت دکھنے کا یہ شوق کچھ عرصہ گذرنے کے بعد خواتین کے لیے”شاک“ کا باعث بن جاتا ہے۔

دبلی پتلی اورخوبصورت نظر آنے کی دوڑ میں ایڑی تک کا زور لگانے والی ان خواتین کے گھٹنوں اور کمر سمیت جسم کے دیگر جوڑ انہی ایڑی والے جوتوں کی وجہ سے عوارض کا شکار ہونے لگتے ہیں، لیکن خواتین کو ایڑی والے خوشنما جوتے اس واردات کا پتہ بھی نہیں چلنے دیتے ہیں۔

بھارت کے ایک پیشہ ورانہ ادارے "نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوکوپیشنل ہیلتھ" کی ریسرچ کے مطابق 68 فیصد خواتین اونچی ایڑی کی جوتیاں پہنتی ہیں جو پاوں کے لئے ہی نہیں جسم کے بعض دیگر اعضاء کے لیے بھی شوق اور خوشنمائی کے راستے تکلیف کے لیے سیڑھی بن جاتی ہیں۔

اس ریسرچ کے مطابق صرف 10 فیصد خواتین صحت اور سہولت کو مد نظر رکھ کر جوتے پسند یا نا پسند کرتی ہیں اسی وجہ سے نوے فیصد خواتین مختلف عمروں کے دوران محض اونچی ایڑی پہننے کی وجہ سے گھٹنوں، کمر، کولہوں، کندھوں اور جوڑوں کے درد سے پریشان رہتی ہیں۔

بھارتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اونچی ایڑی والے جوتوں کا استعمال کرنے وجہ سے 12 سے 18 سال کی لڑکیوں میں 20 فیصد اور 20 سے 39 سال کی عمر کی خواتین میں سے 40 فیصد تک خواتین کو درد کے مسائل کا شکار ہونا پڑتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اونچی ایڑی کے بڑھتے رواج کی وجہ سے خواتین میں گھٹنے اور کمر کے علاوہ مختلف جوڑوں میں درد اور خرابیاں، رگوں میں کھچاؤ اور کمر کے آس پاس چربی جمنے کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ 12 سے 18 سال کی لڑکیاں بھی ان مسائل کا شکار ہو رہی ہیں اور سنگین معاملوں میں گھٹنے بدلنے جیسی سرجری کی نوبت آرہی ہے۔

بھارت کے اپولو اسپتال میں ہڈیوں کے سینئر سرجن ڈاکٹر راجو ویشیہ کہتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ہڈیوں کے سرجنوں کے پاس گھٹنے، کمر اور دیگر جوڑوں کے مسائل کے علاج کے لئے آنے والے مریضوں میں کم عمر کی خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس کی اہم وجہ اونچی ایڑی کے استعمال میں اضافہ ہے۔ ایسے کئی مریضوں میں گھٹنا تبدیل کرنے کا آپریشن کرنا پڑتا ہے۔

ماہر معالج کا کہنا ہے کہ کم عمر کی خواتین کے گھٹنے تبدیل کرنے کی سرجری کے معاملے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایسے گھٹنے زیادہ سے زیادہ 20 سال تک چلتے ہیں اور دوبارہ ایسے ہی ایک اورآپریشن کی نوبت آ جاتی ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے آج آرتھو گلائڈ نامی تکنیک استعمال ہونے لگی ہے۔

دس میں سے ایک خاتون ایک ہفتہ میں کم از کم تین دن اونچی ایڑی کی جوتیاں پہنتی ہے اور حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ ان میں سے ایک تہائی خواتین اونچی ایڑی کی وجہ سے گر جاتی ہیں۔ اونچی ایڑی کی جوتیاں پہننے سے ایڑیاں اونچی ہوجاتی ہیں اور جسم کا جھکاؤ آگے کی طرف ہوجاتا ہے۔

جس سے پنجوں اور ایڑی پر زیادہ زور پڑتا ہے اور پنجوں اور ایڑی میں درد ہونے لگتا ہے۔ بعدازاں پیٹھ درد، ایڑیوں میں درد، نسوں میں کھچاؤ، گھٹنوں میں درد اور فریکچر جیسی شکایتیں سامنے آتی ہیں۔ نوجوان لڑکیوں کے مختلف جوڑوں میں تکلیف ہونے کی ایک بڑی وجہ اونچی ایڑی ہے۔

اس کے علاوہ پورے دن اونچی ایڑی پہننے سے بچنا چاہئے۔ اگر کسی خاتون کو روزانہ اونچی جوتیاں پہننی ہو تو انہیں ایسی اونچی ایڑی کی فٹ ویئر پہننی چاہئیں جن کا سول بھی اونچا ہو۔اونچی ایڑی کے استعمال کی وجہ سے موچ عام مسئلہ بن گئی ہے۔ 20 سے 35 سال تک کی خواتین اس مسئلہ سے زیادہ دوچار ہوتی ہیں۔ ابتدا میں اس میں پیروں میں سوجن نظر آتا ہے لیکن سال دو سال بعد مسلسل اونچی ایڑی پہننے کی وجہ سے مسلسل درد رہنے لگتا ہے۔