ابوظہبی: ہسپتال میں روبوٹ مریضوں کی خدمت پر مامور

یومیہ تین ہزار نسخوں اور 50000 ادویات کو ڈیل کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ابوظہبی میں بڑھتے ہوئے مریضوں کے چیلنج سے نمٹنے اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مریضوں کو تجویز کردہ نسخے کے مطابق ادویات کی فراہمی آسان بنانے کے لیے ایک نئے قائم کیے گئے ہسپتال میں روبوٹ کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ اس مقصد کےلیے یونیورسل ہسپتال کی انتظامیہ نے ساڑھے تین ملین درہم روپوٹ کی خریداری پر خرچ کیے ہیں۔

ابو ظہبی کے نو قائم شدہ یونیورسل ہسپتال میں اب ڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے کے ساتھ یہ روبوٹ بھی مریضوں کی خدمت پر مامور ہے۔ اس منفرد قسم کے روبوٹ کے آتے ہی مریضوں کی لمبی قطاریں اب نظر نہیں آ رہیں۔ روبوٹ کی وجہ سے نہ صرف مرضوں کا وقت بچنے لگا ہے انہیں انتظار میں کھڑے رہنے سے بھی نجات مل گئی ہے۔ خلیجی ممالک کسی ہسپتال میں فارماسسٹوں کو معاونت اور مریضوں کی خدمت میں بروئے کار یہ پہلا روبوٹ ہے۔

جرمنی میں تشکیل پانے والا یہ خودکار "روّا سمارٹ سسٹم" ادویات کو ترتیب دینے کے ساتھ انکی زائدالمعیادی کی تاریخ چیک کرتا ہے جہاں سے ادویات اگلے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہیں ڈیوٹی پر موجود فارماسسٹ ادویات کو سکین کر کے روبوٹ کی دسترس میں آنے والی ادویات کیلئے مختص کیے گئے خانوں میں رکھتے ہیں اور روبوٹ مخصوص خانوں میں ہونے والی خالی جگہ کی بھی نشان دہی کرتا ہے۔

اس سسٹم کی بدولت ایک دن میں 3000 نسخوں اور 50,000 ادویات کو ڈیل کرنا آسان تر ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ 200 بستروں پر مشتمل یونیورسل ہسپتال دو ماہ قبل ائیرپورٹ روڈ پر قائم کیا گیا۔ اب تک وہ صرف بیرونی مریضوں کے لے ہی کھولا گیا ہے۔ یکم اکتوبر سے مکمل طرح خدمات پیش کرنے لگے گا۔

اسپتال کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر شبیر نلیکود نے اس منفرد نظام کے بارے میں بتایا : "اس مشین کے ذریعے 6 سیکنڈ میں فارماسسٹ کے ڈیسک تک ادویات پہنچ جاتی ہیں اور مریضوں کو 3 منٹ کے اندر ادویات فراہم کر دی جاتی ہیں۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ "ہسپتال میں 4 فارماسسٹ ہیں جنکی اولین ذمہ داری مریضوں کو ادویات کے صحیح استعمال اور اس کے طریقے سے آگاہ کرنا ہے۔" جب بھی فارمیسی میں رش بڑھتا ہے تو روبوٹ انکی مشکل کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔

ابوظہبی کے ایک رہائشی راجندرکمار نے کہا کہ عام طور پر ڈاکٹر کے پاس "شعبہ بیرونی مریضاں " ہی میں جاتے ہوئے ہمارا نصف دن لگ جاتا تھا۔ پہلے ہمیں لمبی قطاروں میں جا کر ڈاکٹروں کا انتظار کرنے اور بعد ازاں ادویات لینے کیلئے مزید ایک گھنٹہ لگ جاتا تھا''۔

ڈاکٹر جس مریض کا نسخہ لکھتا ہے، وہ اس مریض کے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور وہ ریکارڈ فارمیسی کے سسٹم میں منتقل کر دیا جاتا ہے اور جب تک مریض فارمیسی تک پہنچتا ہے تب تک انکے نسخے کی تصدیق کر کے ادویات پہنچا دی جاتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں