جیل میں اخوان کے مرشد عام محمد بدیع کو دل کا دورہ

انتقال کی افواہ، سرکاری ذرائع نے تردید کر دی، ہارٹ اٹیک کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی سب بڑی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے زیرحراست سربراہ ڈاکٹر محمد بدیع کو ایک ہارٹ اٹیک ہونے کے بعد ان کے جیل میں انتقال کی افواہ پھیل گئی۔ تاہم اس افواہ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ البتہ سکیورٹی حکام نے ہفتے کی صبح ہونے والے ہارٹ اٹیک کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری اطلاع کے مطابق ان کی حالت اب بہتر ہے ۔

ہفتے کے روز نجی ذرائع ابلاغ یہ اطلاع سامنے آئی کہ اخوان المسلمون کے ستر سالہ مرشد عام محمد بدیع جنہیں ان کے ساحبزادے عمار بدیع کے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہونے کے بعد دوسرے روز قاہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا'' ہفتے کے روز جیل میں انتقال کر گئے ہیں۔'' تاہم مصر کے سرکاری ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی ۔ بعد ازاں سرکاری خبر رساں ادارے'' مینا'' نے اپنی ایک خبر میں اس افواہ کی باقاعدہ تردید کردی۔

اس بارے میں جب اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے سرے سے اسیر مرشد عام کی صحت اور زندگی کے بارے میں کسی اپ ڈیٹ سے لا علمی ظاہر کی۔

اس دوران ایک سکیورٹی سے متعلق ذریعے نے بتایا کہ صبح سویرے کے وقت ڈاکٹروں کی ایک ٹیم مرشد عام کے چیک اپ کے لیے بھجوائی گئی تھی۔ تاہم اب ان کی حالت بہتر ہے۔اس زریعے کے مطابق ہارٹ اٹیک کی وجہ ستر سالہ رہنما پر نفیسیاتی دباو بنی ہے۔ جس کا انہیں ان دنوں سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں