.

سعودی دوشیزہ "مس عرب ورلڈ " کا ٹائیٹل جیتنے کے لئے پرامید

امریکا میں مقیم مہا زین صحافت اور فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں امریکی اور عرب ذرائع ابلاغ میں شام کی جنگ کا موضوع ہی چھایا ہوا ہے لیکن جنگ و سیاست کی خبروں کے جلو میں یہ دھماکہ خیز خبربھی آئی ہے کہ سعودی عرب جیسے قدامت پسند معاشرے سے تعلق رکھنے والی ایک دوشیزہ "مہا زین" امریکا میں دنیائے عرب کے مقابلہ حُسن میں پوری آب وتاب کے ساتھ شرکت کر رہی ہیں۔

مہا زین کے والد یمنی نژاد ہیں۔ مہا زین کی پیدائش یمن میں حضرت موت کے مقام پرہوئی، لیکن اس کی پرورش سعودی ہوئی ہے۔ ان دنوں وہ امریکا کی ریاست شمالی کیرولینا میں مقیم ہیں۔ چبھیس سالہ مہا زین پیشے کے اعتبار سے صحافی اور فلم ڈائریکٹر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اب خود کو امریکا میں منعقدہ سالانہ مقابلہ حسن میں بھی شامل کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مقابلے کے مصری نژاد منتظم اشرف الجمل سے مزید تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ "مس عرب" کیٹگری کے اس سال کے مقابلے میں عرب ملکوں سے 100 دوشیزاؤں کو شامل کیا گیا تھا۔ سکروٹنی کے بعد ان میں سے 20 کو گرینڈ فینالے میں شرکت کریں گی۔ ان میں مہا زین بھی "عرب ملکہ حسن " کا تاج سر پر سجانے کی امید کے ساتھ مقابلے میں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ مہا زین سعودی عرب کی پہلی دوشیزہ نہیں ہیں جو اس طرح کے کسی مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں بلکہ سنہ 2010ء میں غالیہ الراجحی نے بھی قسمت آزمائی کی تھی لیکن قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔

انعام سے خالی مقابلہ

مقابلہ حسن کمیٹی کے منتظم اشرف الجمل نے بتایا کہ "مس عرب" کے مقابلے میں اول دوم اور سوم آنے والی خوش نصیبوں کے لیے ان کی کامیابی اور ملکہ حسن کا "ٹائٹل"ہی سب سے بڑا انعام ہوگا۔ انہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ البتہ ان کے امریکا میں ایک پرتعیش ہوٹل میں قیام کے تمام اخراجات کمیٹی برداشت کرے گی۔ اس کے علاوہ ان کی امریکی اراکین کانگریس سے ملاقاتوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

اشرف الجمل نے بتایا کہ مقابلے میں شریک بیس دوشیزاؤں کو ریاست اریزونا کے"ٹوٹنگ اسٹیک" ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے اور یہیں پر"مس عرب برائے 2013ء" میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن پرآنے والی حسیناؤں کی کامیابی کا اعلان کیا جائے گا۔ ان میں شام، مصر، فلسطین، عراق اور مراکش کی حسیناؤں کے علاوہ لبنان اور اردن کی دو دو امیدوار شامل ہیں۔ کمیٹی کے منتظم نے بتایا اب کی بار مقابلے کی کچھ روایات تبدیل کی گئی ہیں۔ اس میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ امیدوارہ شادی شدہ ہو اور اس کی کم سے کم عمر 18 سال اور زیادہ سے زیادہ 27 سال ہو۔

مہا زین کے والد یمنی اور والدہ مصری ہیں لیکن مہا زین نے سعودی عرب میں پرورش پائی ہے۔ وہ صحافت کے شعبے سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ فلموں میں اداکاری بھی کرتی رہی ہیں۔ مہا زین کا اس نوعیت کے مقابلے میں حصہ لینے کا یہ پہلا موقع ہے۔ سنہ 2010ء میں بھی ایک سعودی دوشیزہ نے مقابلے میں حصہ لیا لیکن لبنانی نژاد جنیفرشحود سے شکست کھا گئی تھیں۔ سنہ 2011 اور 2012ء کے مقابلوں میں فلسطینی حسینائیں چھائی رہی ہیں۔