.

شامی حکومت نے ہی سارن گیس کا حملہ کیا تھا: جان کیری

دمشق کے مشرق میں کیمیائی گیس کے استعمال کے نئے ثبوت مل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو ایسے نمونے مل گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دمشق کے نواح میں حملے کے لیے سارن گیس استعمال کی گئی تھی اور شامی رجیم نے اس حملے کا حکم دیا تھا۔

جان کیری نے اتوار کو این بی سی اور سی این این کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ 31 اگست کو دمشق کے نواح میں حملے کی جگہ سے ایمرجنسی ورکروں نے بالوں اور خون کے جو نمونے امریکا کو دیے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے مِیں طاقتور اعصابی گیس سارن استعمال کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ امریکی اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ شامی حکومت نے اس حملے کا حکم دیا تھا۔ ان کے الفاظ میں ''ہم جانتے ہیں کہ انھوں نے اس کی تیاری کی تھی، ہم جانتے ہیں کہ راکٹ کہاں سے آئے تھے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ راکٹ کہاں گرے تھے''۔

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''ہم اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ حملے کے بعد کیا نقصان ہوا تھا۔ ہم نے سوشل میڈیا پر خوفناک مناظر دیکھے ہیں۔ ہمیں دوسرے ذرائع سے بھی اس کے شواہد ملے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ رجیم نے حملے کے بعد اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی''۔

امریکی وزیرخارجہ نے دمشق کے نواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق ملنے والے ان نئے شواہد کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ امریکی کانگریس بہتر فیصلہ کرے گی اور شام کے خلاف محدود پیمانے پر کارروائی کے صدر براک اوباما کی درخواست کی منظوری دے دے گی۔

جان کیری نے بتایا کہ ''گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران امریکا کو ملنے والے نمونوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، دمشق کے مشرق سے تعلق رکھنے والے معمولوں کے بالوں اور خون کے نمونوں کے ٹیسٹ مثبت رہے ہیں اور ان میں سارن گیس کے اجزاء پائے گئے ہیں''۔