.

شام کو روسی جنگی جہازوں اور ایئر ڈیفنس سسٹم کی فراہمی مؤخر

ماسکو طیارے تین سال تک دمشق کو فراہم نہیں کر سکے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے اپنے دیرینہ اتحادی کو مالی اور تکنیکی وجوہات کی بناء پر جنگی جہاز اور ایئر ڈیفنس سسٹم "S300" کی فراہم موخر کردی ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ دمشق دفاعی معاہدے کے مطابق جنگی جہازوں اور میزائل شکن نظام کی قیمت ادا نہیں کرسکا ہے، جس کی بناء پر یہ اسلحہ روکا گیا ہے۔

روسی اخبار"کومیر سینٹ" نے ماسکو حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ اسلحہ فروخت کرنے والی سرکاری کمپنی "روسو بورن ایکسپورٹ" نے دمشق کی جانب سے قیمت نہ ملنے کے باعث 12 جنگی طیارے اگلے تین سال تک شام کو فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض تکنیکی اورمالی وجوہات کی بناء پرایئر ڈیفنس سسٹم " ایس 300" بھی شام کو نہیں دیا جاسکے گا۔

خیال رہے کہ روس کی جانب سے اپنے دیرینہ دوست کو سامان حرب وضرب کی فراہمی میں تاخیر کی اطلاع ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دمشق حالت جنگ میں ہے اور ماسکو صدر بشارالاسد کے خلاف عالمی جنگ روکنے اور اس کے دفاع کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ روسی صدر ولادی میر پوتن نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو ثابت کرکے دکھائے۔ صدر پوتن دراصل یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے شہریوں پر کیمیائی اسلحہ استعمال ہی نہیں کیا ہے۔

ماسکو میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے روسی صدرکا کہنا تھا کہ امریکا سمیت ہمارے دوستوں میں سے کسی کے پاس شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت موجود ہیں تو وہ سلامتی کونسل میں پیش کریں۔ اگر وہ ثبوت پیش نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب ہے کہ شام میں ایسے مہلک ہتھیاروں کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔