.

لیبیائی اسلحہ کی"فیس بُک" کے ذریعے الجزائر کو فروخت کا انکشاف

الجیرین حکام نے تحقیقات شروع کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک الجزائرکے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ لیبیا کے مقتول لیڈر کرنل معمر قذافی کا متروکہ اسلحہ اور سامان حرب و ضرب سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک" کے ذریعے الجیرین باشندوں کو فروخت کیا جا رہا ہے۔

الجیرین اخبار"الشروق" کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی حکام نے "فیس بک" کے ذریعے ہونے والی اسلحے کی فروخت کی اطلاعات ملنے کے بعد واقعے کی باریک بینی سے چھان بین شروع کردی ہے۔ اس سلسلے میں 'فیس بک' اور آن لائن ہونے والی کسی قسم کی خریداری پربھی گہری نظررکھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق مرد آہن کرنل معمر قذافی کے دور میں تیار ہونے والا وہ اسلحہ جو باغیوں اورعام لوگوں کے ہاتھ لگ گیا تھا، اب مختلف ذرائع سے فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس اسلحے کے خریداروں میں دیگرممالک کے لوگ بھی شامل ہیں مگرسب سے زیادہ الجزائر میں خریدا جاتا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ مقتول کرنل قذافی کا متروکہ اسلحہ الجزائر کی 48 ریاستوں میں وافر تعداد میں پہنچ چکا ہے اور لوگ دھڑا دھڑمزید بھی خرید رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 'فیس بک' کے ذریعے چھوٹے چھوٹے اشتہاروں کی صورت میں لیبیائی اسلحے کی تشہیر کی جاتی ہے۔ ان اشتہاروں میں کلاشنکوف سمیت ہرطرح کے ہتھیار شامل ہیں۔ فیس بک پر مشتہر اسلحے کا ایک اشتہار کچھ یوں ہے"روسی ساختہ 122 کلاشنکوفیں مع 5000 کارتوس نہایت عمدہ حالت میں دستیاب ہیں۔ قیمت صرف 3000 ہزار ڈالرہے۔ کم از کم دس کلاشنکوفوں کے خواہش مند حضرات رابطہ کریں۔ اس سے کم تعداد میں سودا نہیں کیا جائے گا"۔

ایک دوسرے اشتہارمیں 100 ترک ساختہ ہلکے نو ایم ایم پستول قیمت 800 ڈالرز میں فروخت کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ روایتی جنگی ہتھیاروں کے علاوہ دستی ہتھیار بھی 'فیس بک' کے ذریعے فروخت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ لیبیا کے سابق مرد اہن مقتول کرنل معمر قذافی کے بعد انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ملک میں بغاوت کے دوران لوٹا جانے والا اسلحہ خطرناک ہاتھوں میں جا سکتا ہے، جس کے تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔