.

القاعدہ و دیگر گروپ امریکی حساس اداروں میں بھی گھس گئے

امریکی میڈیا میں بگھوڑے امریکی جاسوس سنوڈن کے حوالے سے انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ اور دیگر دہشت گرد گروپ امریکی حساس اداروں کے اندر تک گھس گئے ہیں۔ اس امر کا انکشاف امریکی حساس اداروں میں ملازمت کے لیے کوشاں افراد کے ڈیٹا اور حساس اداروں میں موجود اہلکاروں کے کمپیوٹر استعمال سے متعلق ریکارڈ کے حوالے مرتب کردہ دستاویز کی بنیاد پر امریکی بگھوڑے جاسوس ایڈورڈ سنوڈن نے کیا ہے۔

اس انکشاف کے مطابق سی آئی اے نے پتہ چلایا ہے کہ کچھ عرصے سے امریکی حساس اداروں میں ملازمت کے لیے کوشش کرنے والوں میں سے ہر پانچویں فرد کے رابطے، رجحانات یا پس منظر مشکوک تھا۔ ان میں سے زیادہ تر کا جھکاو حماس، حزب اللہ اور القاعدہ کے حوالے سے رہا ہے۔

امریکا کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے ان امکانی مشکوک افراد کا پتہ ان کے کمپیوٹر کے استعمال میں رجحانات سے چلایا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں حساس اداروں کے اہلکاروں کے کمپیوٹرز کے کی بورڈز پر لگنے والے سٹروکس نے بھی مدد کی ہے، یہ عناصر کیس قسم کے رجحانات رکھتے تھے اور کن موضوعات اور شخصیات کے ساتھ ان کی دلچسپی اور لگاو ہوتا تھا۔

لیکن تاخیر اور امتیازی عمدرآمد نے لاکھوں ڈالر کی کوششوں کے باوجود امریکی حساس ادارے ایڈورڈ سنوڈن کا پتہ نہ چلا سکے جو حساس ترین اور انتہائی خفیہ دستاویزات کے ریکارڈ کاپی کرتا رہا۔

ایک امریکی ذمہ دار نے بتایا '' حالیہ برسوں کے دوران سی آئی اے میں ملازمت کے متلاشی ہر پانچ میں سے ایک شخص کا مخالف حساس اداروں یا دہشت گرد گروپوں سے روابط کا شبہ رہا ہے۔ اس پس منظر میں نیشنل سکیورٹی ایجنسی ایک عظیم ڈیٹا بیس تیار کر رہی ہے جسے'' وائلڈ سیج ''کے نام سے جانا جاتا ہے۔