.

رفسنجانی کے بشار مخالف بیان میں ایرانی نیوز ایجنسی کی"من گھڑت" تبدیلی

سابق صدر نے کیمیائی حملوں کی ذمہ داری شامی صدر پر ڈالی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"ایلنا" نے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا شامی صدر بشار الاسد کے خلاف بیان توڑ مروڑ کرپیش کر کے تہران سرکار سے 'وفاداری' کا حق ادا کرنے کی کوشش کی مگر اس کا یہ جھوٹ پکڑ لیا گیا۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے صوبہ مازندان میں ایک عوامی جلسے خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں شامی صدر کوعوام پر کیمیائی حملوں کا قصور وار قرر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اکیس گست کو دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ میں نہتے شہریوں کی ہلاکتوں میں بشارالاسد خود ملوث ہیں۔ انہوں نے نہتے شہریوں کے خلاف اعصاب شکن ممنوعہ ہتھیار استعمال کرکے عالمی برادری کی ناراضی کو دعوت دی ہے۔ صدر بشارالاسد کو اب اپنے کیے کی سزا بھگتا ہوگی۔

رپورٹ کےمطابق ایران میں اصلاح پسندوں ترجمان بعض ذرائع ابلاغ نے ہاشمی رفسنجانی کا بیان درست انداز میں نقل کیا۔ ایلنا کی جانب سے ابتدائی طورپر جاری کردہ خبرمیں بھی ہاشمی رفسنجانی کی بشارالاسد پر کڑی تنقید بیان کی گئی تھی لیکن کچھ ہی دیر بعد خبر رساں ایجنسی نے اپنی خبر میں رد و بدل کرکے اس کی ایک نیا ورژن جاری کیا جس میں لکھا کہ رفسنجانی نے کیمیائی حملوں کی مذمت کی ہے مگر کسی فریق پراس کی ذمہ داری عائد نہیں کی۔

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا کہنا تھا کہ شام میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی ہلاکتوں اور لاکھوں کے بے گھر ہونے میں صدر بشارالاسد خود ملوث ہیں۔ انہوں نے دو سال سے اپنے عوام کو فتح کرنے کی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ شام کی موجودہ صورت حال کی تمام ذمہ دری بشار الاسد اور ان کے حامیوں پرعائد ہوتی ہے۔ نہتے شہریوں کا قتل عام ایران سمیت عالمی برادری کے لیے باعث تشویش ہے۔ امریکا نے اگر امریکا نے دمشق کے خلاف طبل جنگ بجایا ہے تو اس کے ذمہ دار بشارالاسد ہیں۔ انہیں اب جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ ایران کی موجودہ حکومت اور اس کے سابق حلیف شام کے بارے میں مختلف انداز میں بات کرتے ہیں۔ ایران شام میں صدر بشارالاسد کی ہر ممکن مدد کے ساتھ ساتھ ان کی وفادار فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے عام شہریوں کو بھی باغی قرار دیتا ہے۔