.

انڈیا گیٹ: کھلے آسمان تلے بے گھروں کا بسیرا ہے

بوٹ کلب کا سبزہ زار بہت ساروں کی جنم بھومی بھی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی دارالحکومت نئِ دہلی جہاں مہاتماوں اور بڑے بڑے راجوں مہاراجوں کے حوالے سے ایک لمبی تاریخ رکھتا ہے۔ ہزاروں بے در، بے گھر اور در بے در لوگوں کا بھی اب دنیا بھر میں ایک اہم حوالہ بن چکا ہے۔ دنیا کی اہم تجارتی کمپنیوں کے لیے ایک وسیع مارکیٹ سمجھا جانے والے ملک کے دارالحکومت کو مفلسی ،غربت اور دربےدری کا استعارہ بننے سے روکنے والا بھی کو ئی نہیں۔

کانگریس حکومت کا جاتے جاتے ان غربت کے مارے ہندوستانیوں کے لیے 20 ارب روپے کا پیکج بھی فی الحال ایک سوالیہ نشان ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ایسے میں نئی دہلی کے انڈیا گیٹ میں سے متصل بوٹ کلب کے کھلے لان میں آباد ایک بے خانماوں کی بستی کا مسقبل کیا ہے، کوئی نہیں جانتا۔

اس سے قطع نظر کہ اس بے درو بام کی ہندوستانی بستی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ کبھی کھلے آسمان تلے اور کبھی کسی شجر سایہ دار تلے پڑے رہنے کا ایک فائدہ ضرور ہے کہ بجلی کا بل آتا ہے نہ پانی کا بل ادا کرنا پڑتا ہے۔

بوٹ کلب کے وسیع لان میں سکڑے سہمے پڑے رہنے والے اس بے در مکینوں کی تعداد ایک سو نفوس پر مشتمل ہے جن میں مرد بھی شامل ہیں، عورتیں بھی اور بچے بھی۔ آپس میں اتنا قریب رہنے سے ان کے درمیان علاقئی فاصلوں کی وجہ سے پرانی دوریاں ختم ہو چکی ہیں۔ اب ان سب کی ٹولی ایک ان سب کی بولی ایک والی بات ہے۔ سب کے ایک جیسے حالات نے خیالات بھی ایک جیسے کر دیے ہیں۔

دہلی کے اس کھلے لان کے ان باسیوں کو اس جگہ سے محبت سی ہو گئی ہے۔ لیکن اس محبت کی الگ الگ وجوہات ہیں۔ کوئی یہاں کا پرانا باسی ہے اور کسی کی جنم بھومی ہی باب الہند کا یہ سرسبز میدان ہے۔ کئی ایسے بھی ہیں جو اب کہیں اور جانے کی چاہ نہیں رکھتے اور ایسے بھی ہیں جن کے لیے کوئی اور جاہ نہیں۔

انہی میں ایک بے گھر کا نام کچھ بینا ہے۔ اس کی عمر 65 سال ہے۔ یہ پہلے اتر پردیش میں رہتا تھا، اب یہیں کا ہو کے رہ گیا ہے۔ یہ نئی دہلی میں علاج کی خاطر آیا تھا پھر کرائے اور دیگر اخراجات نے اسے یہیں کا بنا دیا۔

کچھ بینا کا کہنا ہے '' جب سے یہاں آیا ہوں کبھی واپس اتر پردیش نہیں گیا، میں دو سال پہلے یہاں نئی دہلی آیا تھا، پھر مجھے محسوس ہوا میرا اتر پردیش میں کوئی انتظار نہیں کرتا ہے، اس لیے واپس نہیں گیا، اب یہی میرا گھر ہے ۔''

''اتر پردیش میں ایسا کوئی نہیں جو میری اس بڑھاپے میں دیکھ بھال کرنے کو تیار ہو، دوائیوں کے بھاری اخراجات اور وہ بھی ایک چلنے پھرنے سے لاغر بوڑھے پر کون کرے؟۔'' کچھ بینا نے مزید کہا اب میں دوسروں کی خیرات پر گذر بسر کرتا ہوں، اسی بوٹ کلب میں میرا نہانا دھونا ہوتا ہے میں خوش ہوں کہ میں انڈیا گیٹ کا باسی ہوں۔''

کچھ بینا کا انڈیا گیٹ کی اس بے در بستی میں وشوا ناتھ ہمسایہ ہے۔ وشوا ناتھ جزام کے موذی مرض میں مبتلا ہے۔ وہ بوٹ کلب کے اس لان میں تقریبا دس سال پہلے آباد ہوا تھا۔ اس کا کہنا ہے'' میں مغربی بنگال میں دکاندار تھا، دہلی علاج کے لیے آیا اور یہیں کا ہو گیا، کبھی کبھار گھر جاتا ہوں، لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔''

وشواناتھ کے پاس ایسے کئی کارڈز ہیں جو بھارت سرکار نے گاہے گاہے جاری کیے لیکن ان میں سے کوئی بھی کار آمد نہیں ہے۔ اس نے رنج بحرے لہجے مین کہا '' ویسے تو حکومت غریبوں کے لیے مختلف سکیمیں لائی ہے، لیکن ان میں سے کسی کا بھی ہمیں فائدہ نہیں ہے، ہمین التا سرکار کی پولیس تنگ کرتی ہے ۔''

دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا گیٹ کی گلیوں اور کھلے میدانوں میں پڑے یہ ہندوستانی اپنی سرکار سے خوراک ،ادویات یا چھت کی صورت میں کوئی مدد نہیں چاہتے کیونکہ انہیں امید ہی نہیں ہے ۔