.

حج ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکبین کے لیے قدغنوں کا اعلان

بلا اجازت حج کے لیے جعلی مہمیں چلانے والوں کو سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اس سال حج کے موسم کے لیے وضع کردہ قواعد وضوابط کی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد پر مختلف قدغنیں لگانے کے لیے ایک ''تعزیری پیکج'' کا اعلان کیا ہے۔

حج کے دوران نظم وضبط کو برقرار رکھنے کے لیے پابندیوں کے تین زمرے بنائے گئے ہیں۔پہلے کے تحت غیرملکی حجاج کو خلاف ورزی کی صورت میں فوری طور پر سعودی عرب سے بے دخل کردیا جائے گا اور ان کے نام ان لوگوں کی فہرست میں شامل کر لیے جائیں گے جن کے سعودی عرب میں دس سال تک داخلے پر پابندی عاید ہوگی۔

حج کے اجازت نامے نہ رکھنے والے سعودی شہریوں یا سعودی عرب میں مقیم غیرملکی تارکین وطن کومکہ مکرمہ لانے والی گاڑیوں کے مالکان اور اس مقصد کے لیے جعلی مہمیں چلانے والوں کے خلاف بھی تعزیری کارروائی جائے گی اور ان کے خلاف کیسوں کو استغاثہ کی تحقیقات کی تکمیل کے بعد شرعی عدالتوں میں بھیجا جائے گا جو انھیں ایک سال تک قید کی سزائیں دے سکیں گی اور اس سزا میں کوئی معافی بھی نہیں ہوگی۔

سعودی وزارت حج کے انڈر سیکرٹری حاتم القاضی نے مکہ مکرمہ سے العربیہ ٹی وی کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد اندرون ملک سے غیرقانونی طور پر حج کے موسم میں مکہ مکرمہ آنے والے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔اسی طرح بسوں اور گاڑیوں کے مالکان کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مقصد یہی ہے کہ وہ ایسے غیرقانونی افراد کو حج کے موقع پر مکہ مکرمہ لانے سے باز رہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گورنر مکہ اور مرکزی حج اتھارٹی کے سربراہ شہزادہ خالد الفیصل حج 1434ہجری کے انتظامات کی تفصیل بیان کرچکے ہیں اور اس مرتبہ حجاج کرام کا ''حج ایک عبادت اور مہذب کردارہے''کے سلوگن کے تحت استقبال کیا جائے گا۔اس مہذب کردار سے یہ مراد ہے کہ خادم الحرمین الشریفین کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی پیروی کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ خادم الحرمین الشریفین کی تشویش یہ ہے کہ حجاج کرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی زیارت کو جانے والوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر سہولتیں مہیا کی جائیں۔خاص طور پر بیرون ملک سے آنے والے عازمین حج کو رش اور بھیڑبھاڑ سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچایا جائے۔

حاتم قاضی نے اس مرتبہ حج کے ضابطے کی سختی سے پاسداری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال اس کا بڑا مقصد کعبتہ اللہ کی تعمیروتوسیع کے منصوبے کے پیش نظر بلااجازت حج کے لیے آنے والوں کو روکنا ہے تاکہ بیرون ملک سے آنے والے عازمین حج کی تعداد میں بیس فی صد اور سعودی عرب سے آنے والے حجاج کی تعداد میں پچاس فی صد کمی واقع ہو۔

انھوں نے بتایا کہ کوئی سعودی شہری یا سعودی عرب میں مقیم غیرملکی تحریری اجازت نامے کے بغیر مناسک حج ادا نہیں کرسکتا ہے۔حج کے ضابطے کی خلاف ورزیوں میں سے ایک میں گاڑیوں کے مالکان کو انتباہ کیا گیا ہے کہ وہ اجازت نامہ نہ رکھنے والے کسی بھی شخص کو اپنی گاڑی میں سوار نہ کرائیں اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو اسے پھر ضابطے میں دی گئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی طرح سعودی وزارت حج نے لائسنس نہ رکھنے والی کمپنیوں پر بھی لوگوں کو حج کی ترغیب دینے یا انھیں حج کے لیے مکہ لانے پر پابندی عاید کردی ہے۔جن کمپنیوں کو حجاج کو مکہ لانے کے لیے لائسنس جاری کیے گئے ہیں،ان کی فہرست وزارت کی ویب سائٹ پر شائع کردی گئی ہے۔سعودی وزارت نے گذشتہ سال بھی غیرقانونی طور پر حج کے لیے آنے والے لوگوں کی تعداد میں کمی کے لیے مہم چلائی تھی اور اس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے تھے۔

حاتم قاضی کے بہ قول گذشتہ برسوں کے دوران حج کی غیرقانونی طور پرمہمیں چلانے والی کمپنیوں یا فرموں کی تعداد انیس ہزار تھی۔پھران کی تعداد گیارہ تک رہ گئی اور پھر یہ مزید گھٹ کر صرف سات رہ گئی۔اس کامیابی کے باوجود وزارت حج کسی بھی جعلی مہم کا وجود نہیں چاہتی ہے تاکہ سعودی شہریوں یا یہاں مقیم غیرملکیوں کے لیے غیر قانونی طور پر حج کے لیے مکہ مکرمہ آنے کا کوئی جواز ہی نہ رہے۔