.

شام پر حملہ: اوباما کانگریس کی حمایت کے حصول کے لیے پُراعتماد

''امریکی جان لیں شام کے خلاف عراق اور افغانستان سے مختلف اور محدود جنگ ہوگی''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ کانگریس شامی رجیم کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے ان کے فیصلے کی حمایت کرے گی۔

براک اوباما نے منگل کو وائٹ ہاؤس (واشنگٹن) میں کانگریس میں دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان سے شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے ضمن میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ کانگریس کی منظوری کے لیے اپنی قرارداد میں تبدیلی کو تیار ہیں مگراس قرارداد سے شامی صدر بشارالاسد کو واضح پیغام جانا چاہیے اور ان کی کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت کو روک لگنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ وہ امریکی عوام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ عراق یا افغانستان نہیں ہے بلکہ شام میں ان کی کارروائی محدود اور متناسب ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کے کابینہ روم میں ہونے والے اس اجلاس میں کانگریس کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے سرکردہ ارکان شریک تھے۔ امریکی صدر نے کانگریس پر شام پر حملے کی اجازت سے متعلق قرارداد پر جلد رائے شماری پر زور دیا اور اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ شام پر حملہ محدود ہوگا اور عراق اور افغانستان میں لڑی گئی طویل جنگوں کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔

ان کے بہ قول: ''شام کے خلاف فوجی کارروائی کا مقصد بشارالاسد کی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے لیکن اس کے ساتھ ہماری وسیع تر حکمت عملی کا ایک یہ مقصد ہے کہ ہم حزب اختلاف کی صلاحیتوں کو بھی بڑھانا چاہتے ہیں''۔

براک اوباما نے ہفتے کے روز شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ردعمل میں فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری چاہیں گے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے کانگریس کو اپنی مذکورہ قرارداد بھیجی تھی۔

کانگریس کے ارکان اس وقت گرمیوں کی چھٹیوں پر ہیں اور نو ستمبر کو ان کا یہ وقفہ ختم ہوگا، اس کے بعد ہی وہ صدر کی درخواست پر غور کریں گے۔ اس لیے اس سے قبل شام کے خلاف امریکی فوج کی کسی کارروائی کا امکان نہیں۔ تاہم امریکی فوج نے شام کے آس پاس بحیرہ روم میں بحری اور فضائی نقل وحرکت جاری رکھی ہوئی ہے۔