.

بین کی مون کی شام پر متوقع حملے کے تناظر میں گریہ زاری

"خانہ جنگی کا شکار ملک میں صورت حال مزید ابتر ہوجائے گی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے خبردار کیا ہے کہ شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے کے ردعمل میں کسی بھی تعزیری کارروائی سے خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں خونریزی بڑھے گی اور صورت حال مزید ابتر ہوجائے گی۔

بین کی مون نے شام کے خلاف فوجی چڑھائی کی تیاریاں کرنے والے ممالک امریکا اور فرانس وغیرہ کو بھی خبردار کیا ہے اور انھیں باور کرایا ہے کہ اگر وہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اپنے دفاع میں شام کے خلاف کوئی حملہ کرتے ہیں تو پھر ہی وہ قانون کے مطابق درست راہ پر ہوں گے یا پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام کے خلاف حملے کی منظوری دے مگر اس بات کا بہت کم امکان ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک ماضی میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ قراردادوں کو منظور کرانے میں ناکام رہے تھے اور اس مرتبہ بھی ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا کیونکہ سلامتی کونسل کے دومستقل رکن ممالک روس اور چین ایسی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرسکتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما کو سلامتی کونسل سے تو شام کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے کسی قرارداد کی منظوری کی توقع نہیں تھی۔ اس لیے انھوں نے اس کے بغیر ہی شام کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا اور اب وہ امریکی کانگریس سے شام پر حملوں کے لیے اجازت کے خواہاں ہیں۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران امریکا کی دونوں بڑی جماعتوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سرکردہ سینیٹروں نے انھیں اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے جس کے بعد انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ کانگریس شامی رجیم کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے ان کے فیصلے کی حمایت کردے گی۔