.

غیرمعمولی موٹاپے کا شکار سعودی نوجوان ماجد الدوسری چل بسا

خون، آکسیجن کی کمی اور پھیپھڑوں کی خرابی جان لیوا ثابت ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موٹاپے اور بیک وقت کئی موذی امراض میں مبتلا سعودی نوجوان ماجد الدوسری منگل کو انتقال کر گیا۔ دمام شہر کے مرکزی اسپتال "البرج کمپلیکس" کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ ماجد الدوسری کے پھیپھڑے بھی ناکارہ ہو چکے تھے اور وہ خون اورآکسیجن کی بھی کمی کا شکار تھا۔ نیز جسم کو درکار کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مطلوبہ مقدار غیرمعمولی حد تک بڑھ چکی تھی۔ ڈاکٹروں نے دو سال سے اس کی جان بچانے کی ہر مُمکن کوشش کی لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس کی صحت بگڑتی چلی گئی۔ آخری دنوں میں اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا تھا اور وہیں پر اس کا انتقال ہوا۔

خیال رہے کہ ماجد الدوسری حال ہی میں اس وقت قومی اور عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا جب سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے حکام کو اس کے علاج کے لیے ہرممکن طریقہ اختیار کرنے اور حسب ضرورت اسے امریکا لے جانے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم ڈاکٹر اسے امریکا یا کسی دوسرے ملک لے جا تو نہیں سکے ہیں البتہ امریکا کے طبی ماہرین کی ایک ٹیم اس کے علاج کے لیے سعودی عرب پہنچ گئی تھی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ الدوسری کے پھیپھڑے پہلے ہی ناکارہ ہوچکے تھے لیکن گذشتہ جمعہ کو انہوں نے مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ دیا تھا، جس کے باعث مریض کو سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آکسیجن اور خون کی کمی کے ساتھ ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ضرورت سے زیادہ بڑھ گئی تھی، جو آخر کار مریض کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔

سعودی اخبار "الاقتصادیہ" نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہونے والے علاج سے الدوسری کے وزن میں قدرے کمی واقع ہوئی تھی لیکن اس کے ساتھ سانس کی تکلیف غیرمعمولی حد تک بڑھ گئی جو بالآخر جان لیوا ثابت ہوئی۔

خیال رہے کہ چھبیس سالہ متوفی ماجد الدوسری کا غیرمعمولی موٹاپے کے باعث وزن 380 کلو گرام بتایا گیا تھا، اس کی کروٹ بدلنے کے لیے کئی افراد شریک ہوتے اور اٹھانے کے لیے کرین سے مدد لی جاتی تھی۔ مرحوم کی ایک سگی بہن رِنا بھی غیرمعمولی موٹاپے کا شکار ہے تاہم اس کا علاج جاری ہے۔