.

فرانسیسی انٹیلیجنس: الغوطہ سانحے کی ذمہ دار بشار الاسد کی فوج ہے

حکومت فرانس، شام کیخلاف کارروائی کے لیے عوامی حمایت کیلیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے انتیلی جنس سے متعلق اداروں نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ 21 اگست کو شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی اصل ذمہ دار شامی حکومتی افواج تھیں ۔ دمشق کے نواح الغوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں سے ہونے والی سینکڑوں ہلاکتوں کے بارہ روز بعد سامنے لائی گئی فرانسیسی انٹیلی جنس ادراوں کی یہ رپورٹ فرانس کے قانون سازوں کو پیش کر دی گئی ہے۔

فرانس کی حکومت اس رپورٹ کی بنیاد پر شام کے خلاف امریکی جنگی کارروائی کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ انٹیلی جنس اداروں کی اس رپورٹ کے بعد ایک حکومتی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ''شام میں ہونے والا کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال قومی اور عالمی سلامتی کےلیے ایک بڑا خطرہ ہے ۔''

ان حاصل کردہ انٹیلی جنس معلومات میں سیٹلائٹ سے لی گئی ایسی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی کارروائی ان علاقوں سے آپریٹ ہوئی جن علاقوں پر حکومتی کنٹرول ہے۔ ان ہتھیاروں کا ہدف اپوزیشن کے حامیوں کی اکثریت والی آبادیاں تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کی حامی سرکاری افواج ابھی تک ان متاثرہ بستیوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئی ہیں تاکہ زمین پر کیمیاائی ہتھیاروں سے متعلق شواہد کو ختم کیا جاسکے ۔ لیکن ایک چیز کا فرق ہے کہ ان حملوں کا مقصد اب محض خوف پھیلانا نہیں بلکہ ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا بھی ہے۔

دوسری جانب شام کے صدر بشارالاسد نے ایک فرانسیسی روزنامے کو دیے گئے تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ان شامی افواج پر لگایا جانے والا الزام غیر قانونی ہے۔ بشارالاسد نے فرانس کی طرف سے جنگی کارروائی کی صورت میں فرانس پر اس کے مضمرات سے خبردار کیا۔