.

کانگریس حملے کی منظوری دے ورنہ تباہی ہو گی: جان مکین

شام کے خلاف بھر پور کارروائی اور بشار اقتدار کا خاتمہ ضروری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق امریکی صدارتی امیدوار اور ریپبلکن سینیٹر جان مکین نے شام کے خاف صدر اوباما کی امکانی فوجی کارروائی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کانگریس نے اس کارروئی کے حق میں ووٹ نہ دیا تو یہ بڑی خطرناک بات ہو گی۔ انہوں نے صدر اوباما سے بھی بھر پور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جان مکین کا کہنا ہے''اگر کانگریس نے صدر اوباما کے پہلے سے کیے گئے اعلان کے باوجود شام پر حملے کے حق میں ووٹ نہ دیا تو اس فیصلے کے امریکا کے لیے مضمرات بڑے تباہ کن ہوں گے۔''

جان مکین اور سینیٹر لنڈسے گراہم نے پیر کے روز شاام سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کے لیے صدر براک اوباما سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد جان مکین کا کہنا تھا کہ ان کا حوصلہ بڑھا ہے تاہم اوباما انتظامیہ کو کانگریس میں شام کے خلاف قرارداد کی منظوری تک لمبا فاصلہ طے کرنا ہو گا۔

صدر اوباما نے برطانوی پارلیمنٹ کی طرف سے شام پر حملے کی مخالفت کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ شام کے خلاف محدود فوجی کارروائی سے پہلے کانگریس سے منظوری کے خواہش مند ہوں گے۔ اس حوالے سے امریکی قانون سازوں کوعراق پر امریکی حملے کے فیصلے کے طویل عرصہ بعد ایک مرتبہ پھر امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے انتہائی اہم فیصلہ کرنا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ قانون ساز ادارہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد امکانی طور پرستمبر کے دوسرے عشرے میں کرے گا۔

جان مکین اور سینیٹر گراہم نے اوباما سے ملاقات کے بعد کہا ''اوباما کو ضرور بشار الاسد کو اقتدار سے الگ کرنا ہو گا، کیوں کہ شام کی خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔

واضح رہے جان مکین اور سینیٹر گراہم کانگریس کے انتہائی جارحانہ خیالات رکھنے والے ارکان سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے صدر اوباما سے شام کے خلاف ایک جامع اور ہمہ گیر قسم کی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ری پبلکن پارٹی کے ساتھ ساتھ ڈیموکریٹس میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو فوجی کارروائی کے خلاف ہیں۔