.

کیوبا سے امریکا تک پیراکی، ڈیانا نیاڈ نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا

طویل پیراکی کے دوران نیاڈ نے شارک کیج بھی استعمال نہیں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی خاتون پیراک ڈیانا نیاڈ نے مسلسل پیراکی کے بعد کیوبا سے امریکا تک کا سفر طے کر لیا ہے۔ چونسٹھ سالہ نیاڈ بغیر شارک کیج 177 کلومیٹر طویل یہ سفر 53 گھنٹوں میں طے کرنے والی پہلی پیراک بن گئی ہیں۔

ہفتے کے دن ہوانا سے فلوریڈا کا سفر شروع کرنے والی ڈیانا نیاڈ جب پیر کو فلوریڈا کے ’کے ویسٹ‘ نامی ساحلی علاقے پر پہنچیں تو لوگوں کی ایک معقول تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس تاریخی پیراکی کے بعد انہوں نے کہا، ’’ میرے تین پیغامات ہیں۔‘‘ طویل پیراکی کی وجہ سے نڈھال نیاڈ نے کہا، ’’پہلا (پیغام) یہ کہ کبھی بھی حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ آپ کبھی بھی اتنے عمر رسیدہ نہیں ہوتے کہ آپ اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل نہ کر سکیں اور تیسرا پیغام یہ کہ بظاہر یہ کھیل فرد واحد کا معلوم ہوتا ہے لیکن دراصل یہ ٹیم ورک ہے۔‘‘

ڈیانا نیاڈ کو بعدازاں ایمبولینس کے ذریعے قریبی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ طویل پیراکی کی وجہ سے نہ صرف وہ شدید تھکن کا شکار تھیں بلکہ پیراکی کے دوران چہرے پر پہننے والے ماسک کی وجہ سے ان کے ہونٹ اور آنکھیں بھی متورم ہو گئی تھیں۔ تاہم طبی ذرائع کے مطابق پچاس گھنٹے سے زائد کی مسلسل پیراکی کے باوجود وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ نیاڈ کی اس کامیابی پر وائٹ ہاؤس نے انہیں مبارکبادی پیغام ارسال کیا ہے۔

نیاڈ نے پہلی مرتبہ کیوبا سے امریکا تک پیراکی کی کوشش 1978ء میں کی تھی۔ اس وقت ان کی عمر اٹھائیس برس تھی۔ اس دوران انہوں نے شارک کیج یعنی شارک مچھلیوں کے حملے سے بچنے کے لیے ایک خصوصی آہنی جنگلے کا استعمال کیا تھا تاہم اس وقت وہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا رنگ نہیں دے سکی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے اس سنگ میل کو عبور کرنے کے لیے تین مزید کوششیں کی لیکن وہ بھی ناکام ہی رہیں۔ تاہم اب پانچویں کوشش میں ڈیایا نیاڈ تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

ہفتے کے دن نیاڈ نے ہوانا یاخت کلب سے اپنا سفر شروع کرنے سے قبل کہا تھا کہ سمندری راستے سے پیراکی کرتے ہوئے کیوبا سے امریکا جانے کی یہ ان کی آخری کوشش ہو گی۔ اس سفر کے دوران مختلف کشیوں پر سوار ان کی سپورٹ ٹیم میں قریب 35 افراد شامل تھے، جو نہ صرف ان کی رہنمائی کر رہے تھے بلکہ انہیں خوراک بھی مہیا کر رہے تھے۔

اس طویل پیراکی کے دوران نیاڈ نے اپنی تھکن دور کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی بھی سہارا نہیں لیا۔ نیاڈ سے قبل آسٹریلوی پیراک سوزن مارونے نے 1997ء میں یہی مسافت 24 گھنٹوں کی پیراکی کے بعد طے کی تھی تاہم انہوں نے شارک کیج کا استعمال کیا تھا۔ اس وقت سوزن کی عمر بائیس برس تھی۔