.

سفارتی تنازعے کے بعد ترک سفیر قاہرہ واپس آ گئے

مصری سفیر کی انقرہ واپسی سے متعلق قاہرہ دفتر خارجہ خاموش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے لیے ترکی کے سفیر حسین آونی بوٹسالی بدھ کی شام انقرہ سے قاہرہ واپس پہنچ گئے ہیں۔ ادھر مصری وزارت خارجہ کے ترجمان بدر عبدالعاطی نے واضح کیا ہے کہ قاہرہ نے ابھی ترکی سے واپس بلائے گئے سفیر کو دوبارہ انقرہ بھیجنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا.

یاد رہے کہ ترکی کی حکومت نے قاہرہ میں معزول صدر مرسی کے حامیوں کے خلاف ہونے والے خونریز کریک ڈاون کے بعد 16 اگست کو اپنے سفیر حسین آونی بوٹسالی صلاح مشورے کے لیے انقرہ بلا لیا تھا۔

ترکی سے متعلق ذرائع کے مطابق حسین آونی بوٹسالی کی تیسرے ہفتے کے دوران انقرہ سے قاہرہ واپسی ہو جانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ترکی مصر کے ساتھ اپنے سفارتی معاہدے بحال کر رہا ہے ، کیونکہ ترکی نے مصر کے ساتھ سفارتی معاہدے کبھی منقطع ہی نہیں کیے ہیں۔ ترکی کی ایک اہم سفارتی شخصیت کا کہنا تھا ''ہم نے سفیر کو مشورے کے لیے بلایا تھا۔ اب مشورہ مکمل کرنے کے بعد وہ واپس قاہرہ چلے گئے ہیں۔''

دوسر ی جانب ترک سفیر کی قاہرہ واپسی سے محض ایک روز قبل عبوری صدر عدلی منصور نے اپنے پہلے ٹی وی انٹرویو میں ترکی کے ساتھ تعلقات کی ضرورت کو اس شرط کے ساتھ اجاگر کیا ہے کہ ترکی مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔

مصر میں 14 اگست کو معزول صدر مرسی کے حامیوں کے خلاف ہونے والے کریک ڈاون میں سرکار کی تصدیق کے مطابق سینکڑوں مظاہرین لقمہ اجل بنے تھے، جبکہ اخوان المسلمون نے کریک ڈاون کے نتیجے میں ہزاروں کارکنوں اور حامیوں کی ہلاکت کا بتایا تھا۔ ترکی کے وزیر اعظم طیب ایردوآن نے اس واقعے کو پر امن مظاہرین کا قتل عام قرار دیا تھا۔

اس صورتحال میں دونوں ملکوں نے اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلانے کا کہا تھا۔ مزید کشیدگی کے باعث مصر اور ترکی دونوں نے ماہ اکتوبر میں متوقع بحری افواج کی مشترکہ جنگی مشقیں بھی منسوخ کر دی تھیں۔