.

شام پر بحث کے دوران سینیٹر جان مکین گیم کھیلتے پائے گئے

ری پبلکن سینیٹر کی سنگین مسئلے کے بارے میں سنجیدگی سوالیہ نشان بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ارباب اقتدار و سیاست اہم مسائل کے بارے میں مباحث کے دوران کتنے سنجیدہ ہوتے ہیں، اس کا اندازہ تو ان کے جارحیت اور تشدد پسندی پر مبنی فیصلوں سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ اب کے امریکا شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے مسئلے پر محدود پیمانے پر جنگ مسلط کرنے کو ہے اور امریکی اس جنگ کی راہ ہموار کرنے کے لیے صلاح ومشورے کررہے ہیں۔

امریکیوں کی حالیہ تاریخ میں ایک بات تو طے ہے کہ اسلامی ممالک عراق اور افغانستان کے خلاف جنگیں مسلط کرنے کے وقت حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کا موقف ایک ہی رہا ہے اور اب ایک مرتبہ پھر شام کے خلاف صدر امریکا براک اوباما فوجی کارروائی کرنے جارہے ہیں تو ان کی سب سے توانا حمایت سرکردہ ری پبلکن سینیٹر اور سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار جان مکین نے کی ہے۔

خود جان مکین اس معاملے میں کتنے سنجیدہ ہیں؟ اس کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ وہ منگل کو سینیٹ کے اجلاس کے دوران جب شام کے مسئلے پر بحث ہورہی تھی اور اس کے خلاف جنگی کارروائی کے مختلف پہلووؤں پر غور کیا جارہا تھا تو وہ اپنے اسمارٹ فون پر بڑے آرام سے کارڈ گیم کھیل رہے تھے۔

جان مکین ایک عرصے سے میڈیا پر اپنے بیانات کے ذریعے شام میں فوجی مداخلت کی وکالت کررہے ہیں لیکن جب سینیٹ میں بحث کا موقع آیا تو وہ اس میں دلچسپی لینے کے بجائے آئی فون پر کارڈ گیم کے مزے لے رہے تھے۔ اس دوران واشنگٹن پوسٹ کے ایک فوٹو گرافر نے ان کی تصویر بنا لی اور یہ تصویر ٹویٹر کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل گئی۔

اس پر ان کا ردعمل یہ تھا کہ یہ اسکینڈل ہے۔ پھر انھوں نے ٹویٹر پر مزاحاً لکھا:''سینیٹ میں بحث کے دوران تین گھنٹے سے آئی فون پر گیم کھیلتے ہوئے پکڑا گیا۔ یہ ان سب میں سے بدترین ہے جو میں نے کھویا ہے''۔

بعد میں جان مکین نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں ساڑھے تین گھنٹے کی بحث سے اکتا گیا تھا اس لیے تازہ دم ہونے کے لیے گیم کھیلنا شروع کردی لیکن اس گیم میں سب سے بُرا یہ ہوا ہے کہ میں ہزاروں ڈالرز ہار گیا ہوں''۔ اس کی فوراً ہی انھوں نے وضاحت کی کہ یہ جعلی رقم تھی۔

اس سال کے آغاز میں اردن کی پارلیمان کے ایک رکن بھی سمارٹ فون پر خود کو محظوظ کرنے کے لیے فٹ بال گیم کھیلتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔ اس وقت کوئی اور نہیں بلکہ اردن کے وزیراعظم خطاب فرما رہے تھے لیکن رکن پارلیمان نے ان کی تقریر کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔

اردنی پارلیمان کے رکن بھی جان مکین کی طرح اپنے گردوپیش سے بےگانہ ہو کر گیم میں محو تھے اور انھیں یہ پتا ہی نہیں چلا ان کی کوئی ویڈیو ریکارڈ کررہا ہے۔ اردن کے ایک فوٹو جرنلسٹ امجد التاویل نے ان کی خام ویڈیو بنا لی اور اس کو یوٹیوب پر پوسٹ کردیا۔ یہ اتنی مقبول ہوئی کہ اس کو تین دن میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد دیکھ چکے تھے۔