.

شام پر کیمیائی ہتھیاروں کا الزام مضحکہ خیز ہے: صدر پیوٹن

حملہ ہوا تو شام کے لیے فوجی امداد میں اضافہ کر سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادی میرپیوٹن نے شام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزام کو مضحکہ خیزاور صدر اوباما کے ساتھ ماسکو میں متوقع'' ون آن ون'' ملاقات کے امریکا کی جانب سے منسوخ کیے جانے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ''روس شام پر حملے کی صورت میں شام کی فوجی امداد میں اضافہ کر سکتا ہے۔'' روسی صدر نے اس امر کا اظہار بدھ کے روز ایک انٹرویو کے دوران کیا ہے۔

پیوٹن نے کہا ''روس نے دفاعی میزائل سسٹم ایس 300 کے بعض حصے شام کو فراہم کیے ہیں لیکن شام کے لیے مزید سامان لے جانے والی شپٹ فی الحال روک رکھی ہے ۔''

روسی صدر نے کہا'' اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ شام نے اپنے شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں تو روس خود کو اقوام متحدہ کی ایسی قرارداد کی حمایت سے الگ نہیں رکھے گا، جس میں شام کے خلاف سزا کے لیے کہا گیا ہو۔ ''

اس تناظر میں پیوٹن نے اپنے دیرینہ اتحادی شام کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا '' ہمارے نزدیک یہ الزام مکمل طور پر ایک بچگانہ حرکت ہے کہ ایسی باقاعدہ فوج جسے جارحیت سامنا ہو اور بعض علاقوں میں باغیوں نے اس فوج کو گھیرے میں لے رکھا ہو وہ ایسے ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا اپنے ہی شہریوں کے خلاف استعمال کرے گی۔

روسی صدر نے براک اوباما انتظامیہ کی جانب سے 21 اگست کو الغوطہ میں مارے جانے والوں کی تعداد 1429 بتائے جانے اور امریکا کے عراق پر حملے سے قبل عراق میں تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے دعووں کا باہم تقابل کرتے ہوئے کہا'' یہ تمام دعوے غیر مستحکم ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر جنگی کارروائی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے ۔''

ولادی میر پیوٹن نے ماسکو میں اوباما کے ساتھ ماسکو میں متوقع ون آن ون ملاقات کی امریکا کی جانب سے منسوخی کو افسوسناک قرار دیتے ہّئے کہا '' ہم کسی ایشو پر دلائل دیتے ہوئے خفا ہو جاتے ہیں، لیکن میں اس چیز کو دہرانا چاہوں گا کہ اپنے دوطرفہ عالمی مفادات کے لیے اچھی بنیاد یہی ہو سکتی ہے کہ ہم مسائل کا اجتماعی حل تلاش کریں ۔''