تیونس: حکومت مخالف احتجاجی تحریک تیزی لانے کا فیصلہ

حکمراں "النہضہ" اور حزب اختلاف کے مابین مذاکرات ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے اپوزیشن اتحاد نے اسلام پسند حکمراں جماعت "النہضہ" سے سیاسی بحران کے حل سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت مخالف احتجاجی تحریک مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اب احتجاج کا سلسلہ "النہضہ" کی حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ تیونس میں پچھلے چند ماہ سے حکومت کے خلاف تحریک چل رہی ہے۔ پچیس جولائی کو سیکولراپوزیشن رہ نما محمد البراہیمی کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کے بعد حکومت کے خلاف سخت احتجاجی مظاہرے ہوچکے ہیں۔ ان مظاہروں نے سنہ 2011ء میں مفرور صدر زین العابدین بن علی کے خلاف ہونے والے احتجاج کی یاد تازہ کردی ہے۔ ایک ہفتہ قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی سیاسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات شروع ہوئے تھے مگر وہ کسی نتیجے تک پہنچنے سے قبل ختم ہو گئے ہیں۔

حکومت مخالف احتجاج ختم کرانےاور مسئلے کا کوئی سیاسی حل نکالنے کے لیے "تیونس جنرل ورکریونین" نے فریقین کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی تھی جسے حکومت اور اپوزیشن دونوں نے قبول کرلیا تھا۔ کل بدھ کو بھی مذاکرات جاری رہے۔ رات گئے اپوزیشن کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور اپوزیشن جماعتیں دوبارہ سڑکوں پر احتجاج کریں گی۔ اپوزیشن نے حکمراں جماعت النہضہ پرمذاکرات کی ناکامی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ "النہضہ" کی ہٹ دھرمی کے باعث بات چیت ناکام ہوئی ہے۔

تیونس کے نیشنل سالویشن فرنٹ کے ایک سرکردہ لیڈر حمہ الھمامی نے ورکرز الائنس کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم مذاکرات کی ناکامی کی تمام ترذمہ داری حکمراں جماعت "النہضہ" پر عائد کرتےہیں۔ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ النہضہ اقتدار چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اورنہ ہی ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں