شام پر ممکنہ امریکی حملہ: روس کے بعد چین نے بھی مخالفت کردی

سینٹ پیٹرز برگ میں منعقدہ جی 20 سر براہ اجلاس میں امریکی صدر کو دباؤ کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

روس کے بعد چین نے بھی شام کے خلاف امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی کی مخالفت کردی ہے اور خبردار کیا ہے کہ خانیہ جنگی کا شکار اس ملک میں فوجی مداخلت سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔

روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جی 20 سربراہ اجلاس سے قبل چین کے نائب وزیرخزانہ ژو گوانگ یاؤ نے ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ ''(شام کے خلاف) فوجی کارروائی کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا''۔

ادھر بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگ لی نے اپنے ملک کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اگر کسی نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے تو اس کو اس کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے لیکن اس کو جواز بناکر شام کے خلاف یک طرفہ فوجی اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا اور اس سے شامی تنازعہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔

روس کی طرح چین بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو طاقت کا حامل ہے اور اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ امریکی صدر براک اوباما شام کے خلاف سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرانے میں کامیاب ہوسکیں کیونکہ ماضی میں روس اور چین تین مرتبہ شامی صدر بشارالاسد کے خلاف پیش کردہ قراردادوں کو ویٹو کرچکے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکا اور اس کے مغربی اتحادی فرانس اور برطانیہ شام کے خلاف فضائی حملوں کے پر تول رہے ہیں۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے سینٹ پیٹرز برگ کے لیے روانہ ہونے سے قبل پیرس میں کہا ہے کہ ''شام کے بارے میں ان کے ملک کی پالیسی سزا دو اور مذاکرات کرو'' کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر مسٹر اسد کو سزا نہ دی گئی تو پھر کوئی مذاکرات بھی نہیں ہوں گے۔ انھیں سزا دینے سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ مشکل ہوگا'۔

جی 20 اجلاس کے ایجنڈے میں شام کا مسئلہ شامل تو نہیں تھا لیکن اسی ہفتے امریکی صدر براک اوباما کے شام کے خلاف فوجی کارروائی کے اعلان کے بعد سے اب یہی مسئلہ سرفہرست ہوگیا ہے۔ روسی صدر ولادی میر پوتین اور براک اوباما کے درمیان اس موقع پر ملاقات طے نہیں ہے۔ تاہم صدر پوتین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے امریکی ہم منصب سے ون آن ون ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی صدر نے گذشتہ ماہ پوتین سے جی 20 اجلاس کے موقع پر اپنی طے شدہ ملاقات منسوخ کردی تھی۔

درایں اثناء یورپی کونسل کے صدر ہرمین وان رومپائے نے شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی بنیاد پر فوجی مداخلت کی مخالفت کردی ہے۔ انھوں نے سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''فوجی حملے سے بحران کے حل میں مدد نہیں ملے گی''۔ انھوں نے کہا کہ ''شامی تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے بلکہ صرف سیاسی حل سے ہی ہولناک خونریزی اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور شام کی تباہی کو روکا جاسکتا ہے''۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے ذریعے شامی بحران کے حل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ شام میں 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے متعلق امریکا کے پیش کردہ شواہد سے متفق ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی اس واقعے سے متعلق رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے اور پھر کوئی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

یورپی کمیشن کے صدر ہاؤزے مینول براسو نے بھی شام کے خلاف اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ بحران کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جائے اور اس سلسلہ میں جنیوا میں شام سے متعلق مجوزہ امن کانفرنس کے انعقاد کی راہ ہموار کی جائے۔ یورپی یونین کے ان دونوں اہم لیڈروں کی جانب سے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت سے عیاں ہے کہ امریکا کے یورپی اتحادی یک سو نہیں ہیں اور صدراوباما اپنے مجوزہ جنگی منصوبے کے لیے تمام یورپی اتحادیوں کی حمایت حاصل نہیں کرسکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں