امریکی سفارت خانے نے نیٹو کنٹینروں کے لاپتا ہونے کی تردید کردی

کراچی میں نیٹو کے تحت ایساف فورس کے کنٹینروں میں کوئِی اسلحہ نہیں بھیجا گیا: بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان میں امریکی سفارت خانے نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں نیٹو کے تحت انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) کے لیے بھیجے گئے انیس ہزار کنیٹینر کراچی میں بندرگاہ سے چوری ہوگئے تھے۔

سفارت خانے کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا نے ہتھیاروں اور اسلحے سے لدے جن کنٹینرز کے چوری ہونے کی رپورٹس دی ہیں، وہ بالکل غلط ہیں۔

بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ امریکا معمول کے مطابق کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے سفارتی اور فوجی سازوسامان بھیجتا رہا ہے لیکن اس نے یا ایساف نے کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے ہتھیار یا گولہ بارود نہیں بھیجا تھا۔

قبل ازیں پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے2 ستمبر کو نیٹو کے لاپتا کنٹینروں کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اس حکم پرحکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے رمضان بھٹی کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا ہے۔

کراچی میں گذشتہ برسوں کے دوران سخت گیر لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے تعلق رکھنے والے جہاز رانی اور بندرگاہوں کے وفاقی وزیر بابر غوری کے دوروزارت میں نیٹو کے انیس ہزار کنٹینرلاپتا یا غائب کردیے گئے تھے۔ بابرغوری نے اس معاملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

نیٹو کے ان کنٹینروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غائب نہیں ہوئے تھے بلکہ علامتی محاصل بچانے کے لیے ان کو لاپتا ظاہر کیا گیا تھا۔ ان میں مبینہ طور پر ممنوعہ سامان یا جدید خودکار ہتھیار بھیجے گئے تھے جو کراچی شہر میں بعد میں دہشت گردی کی وارداتوں میں استعمال ہوئے ہیں اور اس وقت پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر میں غیرملکی ساختہ جدید ہلکے ہتھیاروں کی بھاری مقدار موجود ہے۔ اس شہر کا ایک عرصے سے امن غارت ہوچکا ہے اور روزانہ ہی دس بارہ افراد دہشت گردی اور تشدد کے واقعات کی نذر ہوجاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں