سلامتی کونسل کو روس نے یرغمال بنا رکھا ہے: امریکی سفیر

نپی تلی رائے ہے کہ سلامتی کونسل کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر اس وقت روس پر برس پڑیں جب محض چند گھنٹے قبل صدر اوباما گروپ20 کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے روس پہنچے تھے۔ امریکی سفیر نے سلامتی کونسل کو یرغمال قرار دیتے ہوئے روس کی موجودگی میں کم از کم شام کے حوالے سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے بے بس ہونے کا اشارہ دیا ہے۔

امریکی سفیر سامنتھا پاور کا کہنا تھا ''روس نے شام کے معاملے میں یو این سکیورٹی کونسل کو یرغمال بنا رکھا ہے۔'' امریکی سفیر کے اس اظہار سے اس میں شاید ہی کوئی شبہ باقی رہ گیا ہے کہ امریک شام میں 21 اگست کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب کے لیے اقوام متحدہ کی منظوری کا متلاشی نہیں رہا ہے۔

امریکی سفیر نے سلامتی کونسل کے ڈھانچے کو الزام دیا کہ اس پانچ مستقل ارکان میں سے کسی ایک کا کسی معاملے پر ویٹو کر جانا بعض اوقات سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ اوباما انتظامیہ کو سلامتی کونسل میں مسلسل ویٹو کے ذریعے بلاک کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی فیصلے کے لیے سلامتی کونسل کا متفق ہونا ضروری ہوتا ہے، لیکن شام کے بارے میں ویٹو کا استعمال شامی رجیم کو بچا لیتا ہے۔

امریکی سفیر نے کہا '' کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام کے خلاف برطانیہ کی قرارداد پیش ہوئی تو اجلاس میں پوری طرح یہ تاثر موجود تھا کہ روس کی موجودگی کے باعث قرارداد منظور ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس ماحول میں کئی ماہ کی کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف کوششوں اور جنیوا میں اڑھائی سال کی امن کوششوں کے بعد ہماری نپی تلی رائے ہے کہ اس سلامتی کونسل کے ہوتے ہوئے آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں ہو سکتا ہے ۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں