شام مخالف کارروائی نہ ہوئی تو ''روگ اقوام'' کو حوصلہ ملے گا: براک اوباما

امریکی اور روسی صدور میں شام پر اتفاق رائے کے بغیر ''تعمیری'' بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ردعمل میں فوجی اقدام کی ناکامی کی صورت میں ''روگ اقوام'' کو حوصلہ ملے گا۔

وہ روسی شہر سینٹ پیٹَرزبرگ میں جی 20 ممالک کے سربراہ اجلاس کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا شام کے معاملے پر الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ انھوں نے شامی بحران پر آیندہ ہفتے امریکی عوام سے خطاب کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا ہے کہ اگر امریکی کانگریس نے شام پر حملے کے لیے ان کی قرارداد کی منظوری نہ دی تو پھر وہ کیا کریں گے۔

براک اوباما نے بتایا کہ گروپ بیس کے رکن ممالک کے اجلاس میں اقوام متحدہ کی قرارداد کے بغیر شام کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔ البتہ گروپ کے بیشتر لیڈروں کا اس بات سے اتفاق تھا کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے ہی شہریوں کے خلاف زہریلی گیس کا استعمال کیا تھا۔

انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ شام پر اپنی بات چیت کو تعمیری قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے پوتین پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر اختلافات کو بالائے طاق پر رکھ دیں اور شام میں سیاسی انتقال اقتدار کی حوصلہ افزائی کریں۔

ولادی میر پوتین نے بھی صحافیوں سے گفتگو میں اس ملاقات کو تعمیری قرار دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے صدر اوباما سے بیس سے تیس منٹ تک شام کے بارے میں بات چیت کی ہے لیکن ان کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا۔

اس موقع پر ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ اجلاس میں شریک کم وبیش تمام لیڈروں نے شام میں مداخلت کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ واضح رہے کہ ترکی ماضی میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف بین الاقوامی اقدام میں حصہ لینے کا عندیہ دے چکا ہے اور اس نے شام کے ساتھ اپنی نو سو کلومیٹر طویل سرحد پر مسلح افواج کو چوکس کررکھا ہے۔

رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ ''جی 20 سربراہ اجلاس میں شریک تمام لیڈر شامی رجیم کے ہاتھوں اپنے ہی عوام کے قتل عام کو ملاحظہ کررہے ہیں اور انھوں نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ دمشق کے خلاف آپریشن ناگزیر ہوچکا ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''اقوام متحدہ کی سرپرستی سے ماورا بھی شام کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے لیے ایک چھوٹا اتحاد تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ اس میں تین یا پانچ ممالک شامل ہوسکتے ہیں۔ اس کی حکمت عملی کیا ہوگی، یہ ایک الگ ایشو ہے لیکن سربراہ اجلاس میں اس اتحاد کی تشکیل پر زور دیا گیا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں