بشارالاسد کی فورسز نے ہی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے: یورپی یونین

فرانس اور ڈنمارک کی اسد رجیم کے خلاف فوجی کارروائی کی بھرپور وکالت، اٹلی، اسپین کی مخالفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کے بعد یورپی یونین کے وزرائے دفاع نے بھی شامی صدر بشارالاسد پر گذشتہ ماہ دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اب تک سامنے آنے والے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ اسد رجیم ہی نے مہلک ہتھیاروں کا حملہ کیا تھا۔

یورپی یونین کے وزرائے دفاع کا بالٹک ریاست لیتھوینیا میں جمعہ کو اجلاس ہوا ہے۔ لیتھوینیا کے وزیردفاع ژوزاس اولیکاس نے کہا کہ ''ایسے بہت سے اشارے ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اسدرجیم نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا''۔ لیتھوینیا اس وقت یورپی یونین کا صدر ملک ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی اطلاع کے مطابق مسٹر اولیکاس نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے ردعمل میں شام کے خلاف کارروائی کے ضمن میں مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یورپی وزرائے دفاع نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس حملے کے ذمے داروں کا احتساب کیا جانا چاہیے۔

ایک اور یورپی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ''ڈنمارک اور فرانس نے اسد رجیم کے خلاف فوجی کارروائی کی بھرپور وکالت کی ہے جبکہ اٹلی اور اسپین نے اس حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے۔ تاہم کسی ملک کے وزیردفاع نے یہ نہیں کہا کہ وہ فوجی اقدام کی صورت میں اس کی مذمت کرے گا''۔

ویلنئیس میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ بھی آج اپنے اجلاس میں شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے والے تھے اور ہفتے کے روز امریکی وزیرخارجہ جان کیری ان کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ وہ شام کے خلاف محدود پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے یورپی یونین کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

درایں اثناء معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرس فوگ راسموسین نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مسئلے پر سخت بین الاقوامی ردعمل کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''عالمی برادری کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر بین الاقوامی پابندی عاید کرے اور پھر اس پر عمل درآمد بھی کرائے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں