روس کا جنگی بحری جہاز ''خاص کارگو'' لے کر شام روانہ

امریکا کے شام پر ممکنہ حملے کے پیش نظر روسی بحریہ کی نقل وحرکت میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس نے شام پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش نظر اپنا ایک اور جنگی بحری جہاز بحیرہ روم کی جانب روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

روسی بحریہ کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ روس کا بحری جہاز نکولائی فلیشنکوف جمعہ کو یوکرین کی بندرگاہ سیوستاپول سے روانہ کیا جارہا ہے۔ یہ جنگی بحری جہاز بھی شام کی بندرگاہ طرطوس میں روس کے فوجی اڈے پر لنگرانداز ہوگا۔

روسی ذریعے کے مطابق اس جہاز پر نووروسسکی سے خصوصی مال لادا جائے گا اور پھر یہ بحیرہ روم میں اپنی طے شدہ جائے منزل کی جانب روانہ ہوجائے گا۔ تاہم اس ذریعے نے اس کارگو کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ آیا وہ فوجی سازوسامان ہوگا، گولہ بارود ہوگا یا انسانی امداد سامان ہوگا۔

روس کے تین جنگی بحری جہاز گذشتہ روز آبنائے باسفورس سے گذرے تھے اور وہ شام کی بندرگاہ طرطوس کی جانب رواں دواں تھے۔ روس نے شام میں جاری بحران کے پیش نظر علاقے میں اپنی بحری نقل وحرکت میں اضافہ کردیا ہے اور ان جنگی بحری جہازوں کے علاوہ وہ آیندہ چند روز میں انٹرفیکس نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق دو ڈسٹَرائیر سمیٹلوی اور ناسٹوشیوی کو بھی روانہ کررہا ہے۔

قبل ازیں روس کے چار جنگی بحری جہاز نیوسٹراشیمی، الیگزینڈر شبالین اور ایڈمرل نیولسکی اور پرسویٹ بحیرۂ روم کے مشرق میں لنگر انداز ہیں۔ امریکا کے پانچ جنگی بحری جہاز اور طیارہ بردار جنگی بحری جہاز شام کے نزدیک ساحلی علاقے میں موجود ہیں اور امکان غالب ہے کہ وہ ان جنگی بحری جہازوں کے ذریعے ہی شامی تنصیبات پر میزائل حملے کرے گا اور اس نے حال ہی میں اسرائیل کے ساتھ مل کر میزائل چھوڑنے کے تجربے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں