"سی آئی اے" نہیں، اب پینٹاگان شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرے گا

امریکا میں شامی باغیوں کی علانیہ مسلح امداد پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزارت دفاع "پینٹاگون" کے دو سرکردہ عہدیداروں نے بتایا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرجنگ باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی اب خفیہ ادارے "سی آئی اے" کے ذریعے نہیں بلکہ علی الاعلان وزارت دفاع کے ذریعے ہو گی۔

وزارت دفاع کے عہدیداروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے فرانسیسی خبر رساں ادارے" اے ایف پی" کوبتایا کہ حکومت شامی باغیوں کی اب کھلے عام مسلح مدد کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے اب اسلحہ کی فراہمی "سی آئی اے" کے توسط سے چوری چھپے کرنے کے بجائے علانیہ وزارت دفاع کے ذریعے کی جائے گی۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ "فی الحال اس موضوع پر "پینٹاگون" اور "سی آئی اے" حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ فی الوقت اس فیصلے پرعمل درآمد کی تاریخ نہیں دی جا سکتی کیونکہ معاملہ ابھی تک زیرغور ہے"۔

دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ ان کا ملک شام میں بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے تمام باغیوں کی مسلح مدد نہیں کرے گا بلکہ اعتدال پسند اپوزیشن کی مدد کی جائے گی۔ مسلح گروپوں کی سیکروٹنی کی جائے گی اور منتخب گروپوں یا باغی لیڈروں کو ہتھیارمہیا کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی باغیوں کواسلحہ کی فراہمی کا فیصلہ صدر باراک اوباما نے گذشتہ جون میں کر دیا تھا لیکن اس پرعمل درآمد میں انتظارکیا جا رہا تھا۔ اگست کے اواخر میں بشار الاسد کی وفادار فوج کے ہاتھوں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد باغیوں کو براہ راست اسلحہ کی فراہمی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں اب ختم ہو چکی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک شام میں باغیوں کو امریکا کی جانب سے صرف سیاسی مدد ہی نہیں بلکہ "سی آئی اے" کے ذریعے ہتھیاربھی ملتے رہے ہیں۔ تاہم امریکا نے کھل کر یہ تسلیم نہیں کیا ہے کہ واشنگٹن باغیوں کو اسلحہ مہیا کر رہا ہے یا نہیں۔

قبل ازیں بدھ کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایوان نمائندگان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ہم شامی باغیوں کی ہر شعبے میں مدد کے لیے تیار ہیں"۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ جون میں باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی کا جو فیصلہ کیا گیا تھا وہ بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر التواء کا شکار ہوا ہے۔

اسی اجلاس میں امریکی مسلح افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈمپسی نے شامی باغیوں کوبے دریغ بھاری اسلحہ فراہم کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے موضوع پر زیادہ کھل کر بات کرنی چاہیے کہ اس کا فائدہ اور نقصان کیا ہوسکتا ہے۔ جنرل ڈمپسی نے بھی شامی باغیوں کی "سی آئی اے" کے بجائے مسلح امداد براہ راست امریکی حکومت کے توسط سے کیے جانے کی حمایت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں