.

ڈیوڈ کیمرون نے جرمن چانسلر کو سعودی ہمسائیگی سے 'محروم' کر دیا

"برطانیہ نے دنیا کو نت نئی ایجادات و فنون لطیفہ سے روشناس کرایا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے شہر سینٹ پیٹربرگ میں ہونے والے جی ٹونئٹی کے اجلاس کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی کہ جب اجلاس میں شریک برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کسی ضرورت کے تحت کچھ دیر کے لئے ہال سے باہر گئے تو جرمن چانسلر انجیلا میرکل ان کی نشست پر آ بیٹھیں اور ساتھ والی نشست پر متمکن سعودی وزیر مالیات ابراھیم العساف سے گفتگو کرنے لگیں۔

اسی اثناء میں ڈیوڈ کیمرون ہال میں واپس آئے تو اپنی نشست پر جرمن رہنما کو بیٹھے دیکھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہو کر کندھے پر ہاتھ مار کر انہیں یہ باور کرانے لگے کہ وہ [انجیلا میرکل] ان [ڈیوڈ کیمرون] کی نشست پر تشریف فرما ہیں، جس کے سامنے برطانیہ کے نام کی تختی لگی ہوئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق چند لمحوں کے لئے جرمن چانسلر کو اپنا کندھا ہلانے والے ڈیوڈ کیمرون کا مدعا سمجھا میں نہیں آیا، تاہم اس کے بعد جونہی انہیں 'غلطی' کا احساس ہوا تو وہ سعودی مہمان سے اپنی گفتگو ادھوری چھوڑ کر ڈیوڈ کیمرون کی نشست سے مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں۔

گروپ ٹوئنٹی کے اجلاس کے موقع پر ڈیوڈ کیمرون نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان ڈمتری بیسکوف کی جانب سے "برطانیہ کو چھوٹا جزیرہ قرار دیتے ہوئے اسے غیر اہم قرار دینے" سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے ملک نے چھوٹا سا جزیرے ہوتے ہوئے تاریخ کے بڑے بڑے کام کئے ہیں، ان میں غلامی کا خاتمہ، نت نئی ایجادات، کھیلیں، فن، ادب اور موسیقی جیسی لطیف چیزیں دنیا کو دی ہیں۔"

صحافیوں کے سامنے اپنے ملک کی قدر و منزلت بیان کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون کا مزید کہنا تھا کہ ہم چھوٹا سا جزیرہ ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے باوجود میرا چیلنج ہے کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا لا کر دکھائیں کہ جس کی ایسی قابل فخر تاریخ ہو۔ انہوں نے کہا کہ یو کے نے دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپ کو فاشزم سے پاک کرنے میں معاونت کی۔