اسد رجیم کو برطانوی کمپنیوں نے زہریلے کیمیکلز فروخت کیے تھے: رپورٹ

برطانیہ سے شام کو کاسمیٹکس میں استعمال کے لیے سوڈیم فلورائیڈ بھیجا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانوی کمپنیوں نے گذشتہ چھے سال کے دوران شام کو زہریلے کیمیکلز فروخت کیے تھے اور انھیں اعصاب شکن زہریلی گیس میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا جس کے حملے کے نتیجے میں دمشق کے نواح میں گذشتہ ماہ ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

اس بات کا انکشاف برطانوی روزنامے ڈیلی میل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی حکومت نے جولائی 2004ء سے مئی 2010ء کے درمیان دوکمپنیوں کو برآمدی لائسنس جاری کیے تھے اور ان کے تحت شام کو سوڈیم فلورائیڈ فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہی کیمیکل مہلک گیس سیرن کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ برطانوی حکومت نے ہفتے کی رات پہلی مرتبہ شام کو یہ کیمیکل بھیجنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس طرح برطانیہ نے شام کو یہ کیمکل فروخت کرکے خطرناک مواد کی تجارت پر پابندی کے بین الاقوامی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی ہے۔

برطانوی کمپنیوں نے شام کی ایک کاسمٹیکس کمپنی کو جائز مقاصد کے لیے سوڈیم فلورائیڈ فروخت کیا تھا لیکن انٹیلی جنس ماہرین کا خیال کیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے اس کیمیکل کو خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا تھا۔

زہریلی سیرن گیس فلورین اورسوڈیم فلورائیڈ کے ہائیڈروجن، آکسیجن اور فاسفورس کے آمیزے سے تیار ہوتی ہے اور اس کو دنیا کا سب سے خطرناک کیمیائی جنگی ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ اعصابی نظام کے علاوہ اعصاب اور اہم اعضاء کو تباہ کردیتی ہے۔

برطانوی پارلیمان کی اسلحہ برآمدی کنٹرول کمیٹی کے رکن تھامس ڈوچرٹی نے اخبار کے اس انکشاف کو ہولناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بشارالاسد رجیم کا اس مواد پر ہاتھ نہیں پڑنا چاہیے تھا۔ ان کے بہ قول جب برآمدی لائسنس جاری کیے گتھے تو ان کے خیال میں درحقیقت کوئی کیمیکلز مہیا نہیں کیے گئے تھے۔

رکن پارلیمان نے ڈیلی میل کو بتایا کہ معیاری طریق کار یہ ہے کہ لائسنس مئی 2010ء میں جاری کیے گئے تھے اور یہ مصنوعات کی تیاری اور ان کی ڈلیوری سے چار سے پانچ ماہ قبل حاصل کیے گئے تھے۔اس لیے ہم2010ء کے آخرمیں برطانیہ سے سوڈیم فلورائیڈ کی برآمد کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس ضمن میں حکومت کو بہت سنجیدہ سوالات کا جواب دینا ہے''۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ برطانیہ کے محکمہ تجارت، ایجادات اور مہارتوں (بی آئی ایس) نے 2012ء میں برآمدی لائسنس جاری کیے تھے اور انھیں شام کو کیمیائی ہتھیار بھیجنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اس محکمے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ''یہ لائسنس برطانیہ کی دو برآمد کنندہ کمپنیوں کو جاری کیے گئے تھے اور انھوں نے شام کی دوتجارتی کمپنیوں کو سوڈیم فلورائیڈ مہیا کرنا تھا۔ اس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ اس کو کاسمیٹکس کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس لیے اس کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے جوڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں