القدس کے نزدیک اسرائیل کے میزائل شکن نظام کی تنصیب

شام پر حملے کی صورت میں ممکنہ جوابی ردععمل سے نمٹنے کے لیے اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صہیونی ریاست اسرائیل نے پڑوسی ملک شام پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش نظر مقبوضہ بیت المقدس میں بھی میزائل شکن آئرن ڈوم سسٹم نصب کردیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے "اے ایف پی" کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق میزائل شکن بیٹری شہر کے مغرب میں نصب کی گئی ہے۔اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے اس سسٹم کی تنصیب پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور صرف یہ کہا ہے کہ ''دفاعی نظاموں کو صورت حال کے جائزے کے بعد نصب کیا گیا ہے''۔

اسرائیل نے اگست کے آخر میں تل ابیب کے علاقے میں موبائل سسٹم کی ایک بیٹری نصب کی تھی۔اسرائیلی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایسی چھے سے سات بیٹریاں اس وقت زیر استعمال ہیں اور انھیں کسی بھی جانب سے میزائل حملے کو ناکام بنانے کے لیے نصب کیا گیا ہے۔

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو گذشتہ ہفتوں کے دوران متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل شام میں جاری جنگ میں ملوث نہیں ہے لیکن اگر اس پر کوئی حملہ ہوا تو وہ اس کا پوری قوت سے جواب دے گا۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام پر حملے کی دھمکیوں کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شام یا اس کے اتحادی حزب اللہ اور ایران ممکنہ حملے کے ردعمل میں اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی کرسکتے ہیں۔

گذشتہ ماہ ایران کے چیف آف اسٹاف جنرل حسن فیروزآبادی نے خبردار کیا تھا کہ ''شام کے خلاف کوئی فوجی کارروائی صہیونی ریاست کو آگ میں جھونک دے گی''۔

اس وقت امریکی صدر براک اوباما شام کے خلاف محدود پیمانے پر فضائی حملوں کی اندرون اور بیرون ملک حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں لیکن ابھی تک ان کے اتحادیوں میں سے برطانیہ ،فرانس اور اسرائیل کے علاوہ کسی اور ملک نے کھل کر انکے جنگی منصوبے کی حمایت نہیں کی ہے جبکہ امریکی عوام، میڈیا اور مختلف سرکاری ادارے ان کے جنگی منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں