ایران، یمن میں تشدد کو مسلسل ہوا دے رہا ہے: یمنی صدر

حوثیوں کے خلاف چھ لڑائیوں میں باغیوں کو تہران کی مدد حاصل تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن کے صدرعبد ربہ منصور ہادی نے ایک مرتبہ پھرالزام عائد کیا ہے کہ ایران ان کے ملک میں علاحدگی پسند حوثیوں اور دیگر متشدد گروپوں کی مدد کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی یمن میں علاحدگی کی تحریکیں چلانے والے اہل تشیع کے حوثی قبائل اور دیگر جنگجوؤں کو ایران کی جانب سے "غذا" مل رہی ہے۔ ان کا اشارہ جنوبی یمن میں طویل عرصے سے علی سالم البیض کی قیادت میں برسرجنگ حوثی قبائل کی جانب تھا جنہوں نے حکومت کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدرعبد ربہ منصور ھادی نے ان خیالات کا اظہار اقصائے شمال کے اضلاع صعدہ، عمران اور حجہ کے قبائلی عمائدین سے ملاقات میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی یمن میں علاحدگی کی تحریک کافی پرانی ہے مگر سنہ 2007ء میں یہ پرامن تحریک ایران اوربعض دوسرے پڑوسی ملکوں اور غیر ملکی قوتوں کی جانب سے امداد کے بعد تیزتشدد رنگ اختیارکرگئی تھی۔

یمنی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ جنوبی یمن کے حوثیوں کو ایران کی جانب سے ہرقسم کی مدد مل رہی ہے۔ اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ماضی میں الصعدہ صوبے میں حوثیوں کے خلاف لڑی جانے والی چھ جنگوں میں بھی ایران نے علاحدگی پسندوں کی بھرر مالی اورعسکری مدد کی تھی۔

یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی" سباء" کے مطابق صدر ھادی نے قبائلی عمائدین سے گفتگو میں کہا کہ سنہ 2004ء اوراس کے بعد الصعدہ ضلع میں حوثیوں کے خلاف لڑائیوں کے نتیجے میں سنہ 2011ء میں ملک میں سیاسی انتشار پیدا ہوا۔ فوج کئی محاذوں پر تقسیم ہوچکی تھی۔ شرپسند موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے باہرسے مدد بھی مل رہی تھی۔

یاد رہے کہ سنہ 2011ء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف ایک عوامی بغاوت کی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں انہیں تمام اختیارات اپنے نائب کو[موجودہ صدر عبد ربہ منصور ھادی] کو سپرد کرتے ہوئے اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

ایران اور یمن میں باہمی اعتماد سازی کی مساعی کے باوجود دونوں ملکوں میں کئی اہم معاملات پراب بھی اختلافات موجود ہیں۔ ناراضی کا اندازہ اگست کے آخرمیں یمنی صدرکے ایرانی وزارت خارجہ کے ایک وفد سے ملاقات سے انکار سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایران کوشکوہ ہے کہ صنعاء اس کے سفارت کاروں کو تحفظ فراہم نہیں کررہا ہے۔ یمن میں متعین ایک ایرانی سفارت کار اکیس جولائی کو اغواء ہوا اور ابھی تک اس کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

کشیدگی کے شکار اضلاع کے قبائلی عمائدین کی صدر ہادی سے ملاقات اس بات کی علامت ہے کہ قبائل موجودہ صدر اور حکومت پر اعتماد کرنے لگے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں صدر ہادی کی یہ ایک اہم کامیابی ہے کہ وہ متحارب قبائل کو اپنے قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یمنی دانشوراور تجزیہ نگار "کامل الشرعبی" نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات ایران اورحوثیوں کی مدد کرنے والی دیگر قوتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ یہ ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس میں صدر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ حوثی 'اثنیٰ عشری' اہل تشیع کو تہران سے بھرپورمدد مل رہی ہے۔

الشرعبی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اب تک حوثی قبائل کے 35 اہم ارکان کو مذاکرات کے لیے قائل کرچکی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ حوثیوں کے لیے ایران کی حمایت کی بات کرنے کے باوجود صدر نے ان سے مذاکرات کی نفی نہیں کی۔ البتہ حجہ، عمران اور الصعدہ اضلاع کے قبائل کی ملاقات سے حوثیوں کو یہ پیغام جائے گا کہ حکومت انہیں تنہا کرکے ملک میں عدم استحکام پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں